ایرانی حکام دمشق میں نئی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات میں اب بھی محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے امور کے سابق ڈائریکٹر جنرل قاسم محب علی نے کہا ہے کہ ایک نیا شام تشکیل پا چکا ہے یا اپنے راستے پر ہے۔ نیا نظام سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد تشکیل دیا جا رہا ہے۔
قاسم محب علی نے کہا تہران کو نئے حالات کے مطابق اپنی پالیسیوں میں ترمیم کرنی چاہیے۔ ایرانی حکام اس بات سے آگاہ ہیں کہ "شام ایک نئی شکل میں ابھرا ہے، یہاں اقتدار سنیوں کے ہاتھ میں ہو گا اور اس لیے وہ عرب ملکوں کے قریب ہو جائے گا۔ فارسی زبان کی آن لائن خبر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دمشق اور انقرہ کے درمیان تعلقات سٹریٹجک اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں۔ قاسم نے نشاندہی کی ہے کہ شام ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جس کے مشرق اور مغرب دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں۔
روس بالادست نہیں رہا
قاسم نے روس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ روس اب بالا دست نہیں ہے اور وہ دمشق کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے لیکن اس کا پہلے جیسا اثر و رسوخ قائم نہیں رہے گا۔ مزید برآں سابق سفارت کار اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر نے تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ایران کی پالیسی کو قومی مفادات اور قومی سلامتی کی بنیاد پر سنجیدگی سے نظرثانی کی ضرورت ہے۔
ایران کے سابق سفارت کار نے کہا کہ ایران کو شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے شامیوں کے رجحانات کو دیکھنے کا انتظار کرنا چاہیے اور پھر اس کی بنیاد پر ممکنہ تعلقات کی تجدید کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔
ایران نے اتحادی کھو دیا
واضح رہے ایران 8 دسمبر کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کے زوال کے بعد سے ایک اہم اتحادی سے محروم ہو گیا ہے اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ کو ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے ایک اہم زمینی راستہ بھی کھو چکا ہے۔ ایران کی حامی حزب اللہ پارٹی کو اسرائیل کے ساتھ گزشتہ تین ماہ کی محاذ آرائی کے دوران بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تل ابیب نے حزب اللہ کے درجنوں اہم سیاسی اور عسکری رہنماؤں کو قتل کر دیا ہے۔