اردن، لبنان اورشام کے علاقوں پر مشتمل متنازعہ اسرائیلی نقشے کی اشاعت پر سخت رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ دو دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر اسرائیل کے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے شائع کیے گئے متنازعہ اسرائیلی نقشوں پر اردن، لبنان اور بعض دوسرے حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

چونکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نقشہ ہزاروں سال قبل کی’تاریخی اسرائیلی ریاست‘ کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی سرزمین سمیت اردن، لبنان، شام کے علاقے بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر اردنی صارفین، عوامی حلقوں اور حکومت نے بھی اس مزعومہ نقشے کی مذمت کی۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ نقشے ناقابل قبول اوراسرائیلی ریاست کے ’استعماری‘ عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے ان الزامات کے خلاف بھی اپنے موقف کی توثیق کی جن کا مقصد اردن کی خودمختاری اور فلسطینیوں کے حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔

اردن کی وزارت خارجہ کا رد عمل

اردنی وزارت خارجہ نے ان نقشوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے نقشوں کی اشاعت اور اسرائیلی وزیر خزانہ کے بیانات کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے مغربی کنارے کے الحاق اور غزہ میں بستیوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان سفیر ڈاکٹر سفیان القضات نے منگل کو ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ عمان ان پالیسیوں کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے جن کا مقصد فلسطینیوں کے مقبوضہ بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کے طور پر اپنی آزاد ریاست کے قیام کے حق سے انکار کرنا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کے یہ الزامات اور اشتعال انگیزی بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس طرح کی سرگرمیوں کی مذمت اور خطے کی سلامتی اور استحکام پر ان کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے عالمی برادری سے ٹھوس موقف اپنانے پر زور دیا۔

اردنی پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے کو اٹھایا گیا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر احمد الصفدی نے زور دیا کہ یہ نقشے "ایک مجرمانہ ذہنیت اور بدنیتی پر مبنی عزائم کا کھلا اظہارہیں جنہیں نظر انداز یا برداشت نہیں کیا جا سکتا"۔

بدھ کے روز پارلیمانی اجلاس کے آغاز میں الصفدی نے زور دے کر کہا کہ اردن جانتا ہے کہ اس کی خودمختاری پر حملہ کرنے والے کسی بھی شخص کو کس طرح جواب دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اردن عرب تھا اور رہے گا۔ فلسطین، شام اور لبنان بھی عرب ہیں اور ان کی عرب شناخت برقرار رہے گی"۔

قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی جانب سے اس طرح کے نقشے شائع کیے گئے ہیں بلکہ کئی بین الاقوامی مواقع کے دوران اسرائیلی حکام نے اسی طرح کی تصاویر اپ لوڈ کی ہیں۔

ادھر کویت نے بھی متنازعہ نقشوں کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح اقدامات خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں