ایئر لائنز کا احتیاط سے شرقِ اوسط کی بعض پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ

الاسد حکومت کا خاتمہ اور غزہ جنگ بندی سے علاقائی امن کی بحالی کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمنی کا لفتھانزا گروپ یکم فروری سے اسرائیل کے تل ابیب کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور وِز ایئر نے جمعرات کو اپنا لندن تا تل ابیب روٹ دوبارہ شروع کیا۔ کمپنیوں نے یہ بات اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد کہی۔

کئی مغربی مسافر برداروں نے حالیہ مہینوں میں بیروت اور تل ابیب سمیت شرقِ اوسط کے مختلف حصوں کے لیے پروازیں منسوخ کر دی تھیں کیونکہ تنازعہ پورے خطے میں پھیل گیا تھا۔ ایئرلائنز نے غلطی سے ڈرون یا میزائل جنگ میں پھنس جانے کے خوف سے عراقی اور ایرانی فضائی حدود سے بھی گریز کیا۔

وِز ایئر نے عمان، اردن کے لیے بھی پروازیں دوبارہ شروع کی ہیں جو جمعرات کو لندن کے لوٹن ایئرپورٹ سے شروع ہو رہی ہیں۔

لفتھانزا گروپ کے برسلز ایئر لائنز، یوروونگز، آسٹرین ایئر لائنز اور سوئس لفتھانزا کے تل ابیب کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے میں شامل تھے۔

جنگ بندی معاہدے کے اعلان سے قبل گذشتہ ہفتے رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں رایان ایئر نے کہا کہ اسے تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ سے موسمِ گرما کا مکمل شیڈول چلانے کی امید تھی۔

شام میں الاسد حکومت کے خاتمے کے تناظر میں ترکش ایئرلائن نے کہا کہ وہ 23 جنوری سے شام کے دارالحکومت دمشق کے لیے ہفتے میں تین پروازیں شروع کرے گی۔

لیکن ایئر لائنز مکمل طور پر خطے میں دوبارہ داخل ہونے سے پہلے محتاط اور چوکس ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران سے لفتھانزا کی پروازوں کی معطلی 14 فروری تک برقرار ہے اور ایئر لائن 28 فروری تک لبنان میں بیروت کے لیے پرواز نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں