متحدہ عرب امارات کو ہر روز 2 لاکھ سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان سائبر حملوں کا نشانہ سٹریٹیجک سیکٹر ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا اظہار متحدہ عرب امارات کی سائبر سیکیورٹی کونسل کی طرف سے کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے 'ڈیبلیو اے ایم' نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ سائبر حملے 14 مختلف ملکوں سے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم متعلقہ اداروں نے ان حملہ آوروں کے علاقوں کی کامیابی سے نشاندہی کر لی ہے اور ان کا توڑ بھی کر لیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ان سائبر حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ متحدہ عرب امارات کے سرکاری شعبے ہیں۔ جبکہ 30 فیصد سائبر حملے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی شعبے پر 7 فیصد حملے ہو رہے ہیں۔ ایوی ایشن ، شعبہ صحت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو مجموعی سائبر حملوں کے 4 فیصد کا سامنا ہے۔
ان حملوں کا تجزیہ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں کا بڑا حصہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں مداخلت سے متعلق ہے اور اس طرح کے واقعات 40 فیصد ہو رہے ہیں۔ جبکہ فائل شیئرنگ نوعیت کے سائبر حملے 9 فیصد ہیں۔
اسی طرح بلیک کیٹ رینسوم ویئر گروپ ان سائبر حملوں کا 51 فیصد ذمہ دار رہا۔ غلط کنفیگریشن کی وجہ سے 27 فیصد سائبر حملے کامیاب ہوئے۔ جبکہ 22 فیصد حملے سکیننگ اور 15 فیصد سائبر حملے غلط رسائی کی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران حملوں میں اضافے کا زیادہ امکان ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائبر حملوں کو کامیاب بنایا جا رہا ہے۔ کونسل حکام نے سرکاری و نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ قومی سطح پر قائم سائبر سیکیورٹی کے معیار کے مطابق اپنی سیکیورٹی یقینی بنائیں۔