اسرائیل کا جنین کے گرد گھیرا تنگ، آپریشن میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے چھٹے روز جہاں غزہ پٹی کے شمالی علاقے کے بے گھر افراد اپنے گھروں کے ملبے کی طرف واپسی کی تیاری کر رہے ہیں وہاں اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہر جنین میں سیکڑوں فلسطینیوں کو ان کے گھر خالی کرنے پر مجبور کر دیا۔

تازہ صورت حال کے مطابق اسرائیل نے جنین پناہ گزین کیمپ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ جنین شہر میں داخل ہونے کے چاروں راستے بند کر دیے گئے ہیں اور آمد و رفت روکنے کے لیے ریت کی رکاوٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔

فلسطینی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے جنین کے جنوب میں قباطیا قصبے پر دھاوا بول دیا اور جنین کے شمال مغرب میں واقع قصبے یامون میں بنیادی سہولیات کا ڈھانچا تباہ کر دیا۔ بجلی کی فراہمی اور ایندھن کی ترسیل کا سلسلہ منقطع ہونے کے سبب مریضوں اور طبی عملے کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق جنین میں آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 13 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن مین ایک بچہ شامل ہے۔ ان کے علاوہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے جنین اور اس کے پناہ گزین کیمپ میں اپنا آپریشن جاری رکھا۔ اس دوران میں جنین کیمپ کے جنوب مغرب میں الدمج اور الحواشین کے محلوں میں جھڑپیں ہوئیں جب کہ اطراف کے علاقوں سے لوگوں کے کوچ کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

غزہ ۔
غزہ ۔

فلسطینی ذمے داران کے مطابق سیکڑوں افراد جنین سے کوچ کر چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے مقامی رہائشیوں کو گھروں کو خالی کرنے کی دھمکیاں دی تھیں جن کے بعد لوگ کوچ کرنے پر مجبور ہو گئے۔

جنین میں آپریشن کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں اپنے عسکری اقدامات سخت کر دیے اور درجنوں چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں