مصر نے عرب دنیا کے ملکوں بشمول اردن، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ سے فلسطیینوں کے جبری انخلاء کے ٹرمپ منصوبے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کریں۔ اس امر کا اظہار مصر کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز جاری کیے گئے بیان میں کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے ماہ سے کہہ رکھا ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینی آبادی کو نکال کر غزہ کی صفائی کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا بھر میں ٹرمپ منصوبے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ جبکہ مصر نے عرب ممالک سے اس پر سخت مؤقف اپنانے کا کہا ہے۔
مصر جس کی سرحد غزہ سے جڑی ہوئی ہے کی طرف سے عرب شراکت داروں جن میں اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات شامل ہیں ان سے فون کال پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو غزہ سے نکالنے کے کسی بھی طریقے کو سختی سے مسترد کریں۔
-
غزہ سے فلسطینی عوام کا جبری انخلاء قانون کے خلاف ہے: ماہرین قانون
اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء ...
مشرق وسطی -
مسلم امریکی رہنماؤں نے ٹرمپ کا غزہ کیلیے منصوبہ مسترد کر دیا
ٹرمپ کے بیانات صرف الفاظ کے سوا کچھ نہیں، ان پر عمل درآمد نہیں ہوگا: زیادہ تر ...
بين الاقوامى -
اہل غزہ کو دوبارہ بسانے سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کے مکمل خلاف ہوں : جرمن چانسلر
جرمن چانسلر اولاف شولز نے اعلان کیا ہے کہ وہ "غزہ کے لوگوں کی دوبارہ آباد کاری" ...
بين الاقوامى