اہل غزہ کو دوبارہ بسانے سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے کے مکمل خلاف ہوں : جرمن چانسلر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمن چانسلر اولاف شولز نے اعلان کیا ہے کہ وہ "غزہ کے لوگوں کی دوبارہ آباد کاری" کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی مکمل طور پر مخالفت کرتے ہیں۔

جرمنی کے مغربی حصے میں لودفیگسبورک میں انتخابی اجتماع سے خطاب کے دوران میں ان کا کہنا تھا کہ "صدر ٹرمپ جو پیش کش کر رہے ہیں میں اسے مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں، ہم غزہ کے لوگوں کی مصر اور اردن میں آباد کاری نہیں کر سکتے، یہ بات نا قابل قبول ہے"۔

غزہ کی پٹی کی آبادی کی جبری ہجرت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب اور دیگر ممالک نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں امریکی صدر نے غزہ کی پٹی کو "مڈل ایسٹ ریویرا" میں تبدیل کر دینے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ پیش رفت میں اسرائیلی انٹیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل شلومی بیندر نے غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کے منصوبے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ بیندر کے مطابق یہ اقدام خطے میں آگ بھڑکا دے گا۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے بتائی۔ چینل کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینئر قیادت ٹرمپ کے منصوبے کے نتائج پر تشویش رکھتے ہیں۔

اسی طرح جرمن چانسلر نے ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر عائد پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے باور کرایا کہ "پابندیاں ایک غلط آلہ کار ہے"۔

شولز کے مطابق یہ پابندیاں اس ادارے کو دھمکا رہی ہیں جو اس دنیا میں جابروں کو عوام پر ظلم کرنے اور جنگیں مسلط کرنے سے روکنے کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ بہت اہم امر ہے"۔

ٹرمپ نے جمعرات کے روز ان افراد پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کر دیں جو امریکی شہریوں یا امریکا کے اتحادیوں مثلا اسرائیل کے ساتھ عالمی فوجداری عدالت کی تحقیقات میں شریک ہیں۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے آج جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ برلن امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت پر عائد پابندیوں کے باوجود عدالت کی حمایت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے آج جمعے کے روز خود پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی۔ عدالت نے عزم ظاہر کیا کہ وہ دنیا میں "انصاف کو یقینی بنانے" کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

عدالت نے باور کرایا ہے کہ وہ اپنے ملازمین اور اہل کاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور عزم کرتی ہے کہ دنیا بھر میں انصاف کے منتظر کروڑوں افراد کے لیے امید بننے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں