ٹرمپ کا منصوبہ خطے میں آگ بھڑکا دے گا : سربراہ اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

غزہ کی پٹی کی آبادی کی جبری ہجرت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ عرب اور دیگر ممالک نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں امریکی صدر نے غزہ کی پٹی کو "مڈل ایسٹ ریویرا" میں تبدیل کر دینے کا دعویٰ کیا ہے۔


اس سلسلے میں تازہ پیش رفت میں اسرائیلی انٹیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل شلومی بیندر نے غزہ کے حوالے سے امریکی صدر کے منصوبے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ بیندر کے مطابق یہ اقدام خطے میں آگ بھڑکا دے گا۔ یہ بات اسرائیلی ٹی وی چینل 13 نے بتائی۔ چینل کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینئر قیادت ٹرمپ کے منصوبے کے نتائج پر تشویش رکھتے ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے آج جمعے کے روز اسرائیلی ٹی وی چینل 14 سے گفتگو میں کہا کہ "غزہ کی صورت حال دوبارہ سے پرانی حالت پر نہیں آئے گی۔ میں سن رہا تھا کہ ابو مازن (فلسطینی صدر محمود عباس) اور فلسطینی اتھارٹی آئیں گے اور ہمارے لیے نیا غزہ لائیں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں کچھ اور لے کر آنے کو تیار ہوں یہاں تک کہ غزہ کی ذمے داری اٹھانے کو بھی تیار ہوں۔ آپ وہاں کسی کو ترجیح دیں گے ابو مازن کو یا امریکا کو ؟ یہ ایک نیا خیال ہے جس نے بے شک دنیا کو حیران کر دیا"۔

نیتن یاہو کے مطابق انھیں معلوم ہے کہ ٹرمپ دیگر ملکوں کی بڑی تعداد کے سربراہان سے رابطے میں ہیں تاہم انھوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
اسرائیل نے جمعرات کی صبح اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے لوگوں کے کوچ کا عمل آسان بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پر حماس تنظیم نے فوری طور پر عرب لیگ کے ہنگامی سربراہ اجلاس کا مطالبہ کر دیا تا کہ ٹرمپ کے مذکورہ منصوبے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ادھر مصر نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ پیش رفت غزہ کی پٹی میں کمزور جنگ بندی کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ "میں نے فوج کو ہدایت جاری کر دی ہیں کہ وہ ایک منصوبہ تیار کرے جس کے تحت غزہ میں رہنے والا کوئی بھی فلسطینی جو جانے کا خواہش مند ہو اپنی مرضی سے کسی بھی ملک جا سکے جو اس کے استقبال کے لیے تیار ہو"۔

غزہ کی پٹی کی آبادی اس وقت کوچ نہیں کر سکتی کویں کہ اسرائیل نے پٹی کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے ذمے داران نے بدھ کے روز ٹرمپ کے بیان کی شدت کم کرنے کی کوشش کی۔ وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ "ٹرمپ نے کم از کم فی الوقت غزہ کی سرزمین پر امریکی فوج کی تعیناتی کا ارادہ نہیں کیا"۔ اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام عارضی طور پر غزہ کی پٹی سے کوچ کر جائیں جب تک واشنگٹن کے پاس اس کی تعمیر نو کی ذمے داری ہو۔
البتہ ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنی تجویز کی سنجیدگی کو باور کراتے ہوئے کہا کہ "لڑائی کے خاتمے کے بعد امریکا ، اسرائیل سے غزہ کی پٹی کو لے لے گا اور اس خیال پر عمل درآمد کے لیے امریکی فوجیوں کی ضرورت نہیں ہو گی"۔


ریپبلکن ارب پتی ٹرمپ نے سوشل میڈیا ویب سائٹ "ٹروتھ سوشل" پر پوسٹ میں لکھا کہ غزہ کی پٹی کے فلسطینی کو ہجرت کروائی جائے گی یہاں تک کہ ان کو زیادہ محفوظ اور کہیں زیادہ خوب صورت معاشروں میں دوبارہ آباد کر دیا جائے، جہاں خطے میں جدید گھر ہوں"۔

ادھر حماس تنظیم ٹرمپ کے بیان کو "غزہ کی پٹی پر قبضے کے علانیہ ارادے" کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تنظیم نے جبری ہجرت کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری عرب سربراہ اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ "ٹرمپ کا بیان قطعا مسترد کیا جاتا ہے، غزہ اس کے رہنے والوں کا ہے اور وہ ہر گز کوچ نہیں کریں گے"۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قاہرہ ایسے کسی بھی خیال یا پیش کش کو مسترد کرتا ہے جس کا مقصد جبری ہجرت کے ذریعے مسئلہ فلسطین کو ختم کرنا ہو۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مصر ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کی شام امریکی چینل Fox Newکو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کے خیال کو "شان دار" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر غور اور عمل درآمد ہونا چاہیے۔ نیتن یاہو کے مطابق اس منصوبے کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے مستقل طور پر جانا ہو گا۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے باور کرایا ہے کہ نسلی تطہیر سے کسی بھی صورت میں اجتناب ضروری ہے۔ انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ فلسطینیون کو بحیثیت انسان اپنی سرزمین پر رہنے کا حق حاصل ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکا غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کی فنڈنگ نہیں کرے گا البتہ وہ خطے میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ اس حوالسے سے کام کرے گا۔

فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ یا مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کی کوئی بھی جبری ہجرت "نا قابل قبول" ہو گی۔

ادھر اردن ، امارات ، سعودی عرب اور عرب لیگ کے علاوہ یورپی یونین بھی امریکی منصوبے کو مسترد کر چکی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز کہا کہ غزہ کے لوگوں کی جبری ہجرت کی تجویز چونکا دینے والی ہے۔


دوسری جانب اسی دوران غزہ میں فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے سلسلے میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔ معاہدے کا پہلا مرحلہ 19 جنوری کو شروع ہوا تھا جو چھ ہفتوں تک جاری رہے گا۔

حماس نے منگل کے روز بتایا تھا کہ ان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسرائیل کے مطابق وہ رواں ہفتے کے اختتام پر ایک وفد قطر بھیجے گا۔ مصر اور امریکا کے ساتھ قطر ان مذاکرات میں تیسرا ثالثی ہے۔

معاہدے کے پہلے مرحلے میں اب تک غزہ سے 18 یرغمالیوں کو آزاد کیا جا چکا ہے جس کے مقابل اسرائیلی جیلوں سے تقریبا 600 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا۔ اس دوران 10 ہزار سے زیادہ امدادی ٹرک غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے اور پانچ لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینی غزہ کی پٹی کے شمال میں واپس آئے۔

معاہدے کے دوسرے مرحلے میں مزید یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کا خاتمہ سامنے آئے گا جب کہ تیسرا اور حتمی مرحلہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے مختص ہے۔
سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے بڑے اور غیر معمولی حملے میں 1210 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ 251 کو یرغمال بنا لیا گیا۔
جواب میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ میں کم از کم 47583 فلسطینی جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں پر مشتمل شہریوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں