غزہ جنگ: نیتن یاہو نے اسرائیلی لاشوں کی رہائی کے دن کو دل دہلا دینے والا قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یایو نے آج جمعرات کے روز کو اسرائیل کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا دن قرار دیا ہے ۔ وہ ساڑھے پندرہ ماہ تک اسرائیل کی اپنے اتحادیوں کی غیر معمولی مدد سے جاری رکھی گئی جنگ کے باو جود رہا نہ کرا ئے جا سکے ان اسرائیلیوں کا ذکر کر رہے تھے جو اس دوران ہلاکت کو پہنچ گئے ۔ مگر زندہ تو در کنار مردہ حالت میں بھی اسرائیل کی فوج انہیں حماس سے نہ چھڑا سکی ۔

یاد رہے اسرائیل نے ساڑھے پندرہ ماہ تک اپنے تباہ کن جنگ کے جاری رکھنے کے ہمیشہ تین بڑے اہداف بتائے تھے۔ پہلا یہ کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو چھڑوا لے جانا، دوسرا یہ کہ حماس کا خاتمہ کرنا اور تیسرا یہ کہ غزہ سے حماس کی مزاحمتی قوت سمیت اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کا امکان باقی نہ رہنے دینا ہے۔

لیکن اسرائیل کی اس سب سے طویل جنگ کے لڑے جانے کے بعد بھی کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کو حماس کے ساتھ ہی سمجھوتہ کرکے 19 جنوری سے جنگ بندی کرنا پڑی۔ اس جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ تک جاری رہے گا اور وعدے کے مطابق 33 اسرائیلیوں کو رہا کرے گا۔ ان 33 میں کئی ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی بھی ہیں ۔ جن کی پہلی کھیپ آج چار لاشوں کی صورت اسرائیل کو ملے گی ۔ نیتن یاہو نے اسی کے بارے میں آج کے دن کو اسرائیل کے لیے دل دہلا دینے والا قرار دیا۔

انہوں نے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے ' یہ دن اسرائیل کے لیے سوگ اور رنج کا دن ہے۔ اس موقع پر ہمارا دل ٹوٹ رہا ہے۔ کہ آج ہم اپنے چار ہیروز کی لاشیں غزہ سے رہائی کے ملنے کے بعد وصول کریں گے۔ '

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اطلاع دی ہے کہ اسے موصول ہونے والی چار اسرائیلی لاشوں کے نام مل چکے ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں اسرائیلی فوج کے نمائندوں کے ذریعے ان خاندانوں کو آگاہ کر دیا ہے جن کے پیاروں کی لاشیں آج حماس سے ملیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں