FII انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ اٹیس نے میامی میں سعودی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سمٹ کے دوران العربیہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان اہم ترین عوامل کے بارے میں بات کی جنہوں نے بڑی غیر ملکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے پر اکسایا ہے۔ انہوں نے کہا عام طور پر کسی جگہ پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے آپ کو استحکام اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔
رچرڈ اٹیس نے مزید کہا کہ سرمایہ کار قلیل مدت کے لیے سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ وہ درمیانی اور طویل مدتی سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے جب وہ 2030 یا 2040 اور 2050 کے افق کے لیے کوئی وژن دیکھتے ہیں تو انھیں سرمایہ کاری کی بھرپور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ یہی چیز سعودی عرب میں سرمایہ کاری کو بہت کامیاب اور ٹھوس بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، ایوی ایشن، فوڈ سیکورٹی کے منصوبوں، سیاحت و ضیافت کے منصوبوں اور یقیناً ایکسپو 2030 سے متعلق منصوبوں کے بارے میں بہت بات کر رہے ہیں۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ ایکسپو 2030 کے بڑے پراجیکٹ میں کیسے شرکت کی جائے۔
رچرڈ اٹیس نے کہا کہ میں میامی میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی ترجیحات کے تیسرے ایڈیشن سے بہت خوش ہوں۔ امریکہ کے صدر کی طرف سے افتتاحی تقریب کا آغاز حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے معاشی جغرافیہ کے لحاظ سے اپنی حکمت عملی کی وضاحت کی اور ہمارے ساتھ 90 منٹ سے زیادہ وقت گزارا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں امریکہ میں سرمایہ کاری کیسے کرنی چاہیے۔ ٹرمپ بہت سے سوالات کے جواب دینے کے لیے کافی مہربان تھے۔ ہم نے اپنے مقررین اور مندوبین کے ساتھ بہت اچھی بات چیت کی ہے۔
انہوں نے کہا آپ جانتے ہیں ہم نے دنیا بھر سے آنے والے 1,500 سے زیادہ مندوبین کی میزبانی کی جو بہت اہم ہے۔ یہ ہماری عالمی معیشت کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ یہ صرف خیالی چیز نہیں بلکہ حقیقی چیز ہے۔
مصنوعی ذہانت کا بہت بڑا اثر
اٹیس نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے الیکٹرک گاڑیوں، خودکار مینوفیکچرنگ، صحت کی دیکھ بھال اور دیگر بہت سے شعبوں پر کس طرح اثر پڑے گا ۔اس لیے ہم یقینی طور پر تمام بات چیت میں مصنوعی ذہانت کو دیکھ رہے ہیں۔ پھر میں یہ کہوں گا کہ بہت سے لوگ سعودی عرب میں مواقع کے بارے میں بھی بات کر رہے ہیں اس لیے نہیں کہ سرمایہ کاری فنڈ سعودی عرب میں شروع ہوا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کا ایک بڑا منصوبہ ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عالمی کھلاڑیوں کے اب سعودی عرب کے کچھ بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں۔ اس لیے وہ جانتے ہیں کہ نہ صرف پبلک سیکٹر میں بلکہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے بہت اچھا ہے۔
ان عوامل کے بارے میں جو ان کے خیال میں بڑی غیر ملکی کمپنیوں کو سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے پر مجبور کر رہی ہیں رچرڈ اٹیس نے بتایا کہ آپ جانتے ہیں کہ کسی جگہ پر سرمایہ کاری کرنے کے لیے استحکام اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے اور مملکت یقینی طور پر یہ دو اہم عوامل فراہم کر رہی ہے۔ سعودی قیادت کی پالیسیوں کی بدولت زیادہ سے زیادہ اعتماد پیدا ہوا ہے۔