شام میں سکیورٹی فورسز نے درعا کے شمال میں واقع شہر صنمین میں جھڑپوں کے بعد کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ یہ جھڑپیں منحرف سفیر نور الدین اللباد اور ان کے بھائی عماد کے قتل کی خبر آنے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔ نا معلوم مسلح افراد نے درعا کے شمال میں دونوں بھائیوں کے گھر پر حملہ کر کے انھیں موت کی نیند سلا دیا۔
با خبر ذرائع نے العربیہ نیوز کو بتایا کہ یہ کارروائی پراسرار طور پر کی گئی جس نے اس کے محرکات اور پس منظر کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک وائرل وڈیو کلپ میں سملح افراد کو نور الدین کے گھر میں داخل ہونے دیکھا جا سکتا ہے۔
مذکورہ ذرائع نے واضح کیا ہے کہ نور الدین دو ہفتہ قبل فرانس سے آئے تھے۔ وہ فرانس کی شہریت رکھتے ہیں اور واقعے کے پانچ روز بعد ان کا فرانس کے سفر کا ارادہ تھا۔
حکام اس واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے وسیع تحقیقات کر رہے ہیں۔ واقعے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
نور الدین اللباد کون ہیں؟
اللباد کی پیدائش 1962 میں شام کے صوبے درعا میں صنمین شہر میں ہوئی۔ وہ ایک نمایاں شامی سفارت کار اور معروف شاعر ہیں۔ انھوں نے پیرس میں "سوربرن" یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
اللباد نے فرانسیسی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کی اور ترجمے میں ہائر ڈپلوما کیا۔ انھوں نے شامی وزارت خارجہ میں انڈر سکریٹری کے منصب پر بھی کام کیا۔
اللباد نے کئی سفارت خانوں میں کام کیا جن میں صنعاء، پیرس، بغداد، انقرہ، بنغازی اور طرابلس شامل ہے۔
وہ ان پہلے سفارت کاروں میں سے ہیں جو سابق شامی نظام سے منحرف ہوئے۔
انھیں فرانس میں "انقلابی قوتوں اور شامی اپوزیشن" کے قومی اتحاد کا نمائندہ بھی مقرر کیا گیا۔
-
شام:'ایس ڈی ایف' کے 15 جنگجو منحرف، اسدی فوج میں شامل ہوگئے
شام کے الحسکہ شہرسے ملنے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق امریکی حمایت یافتہ 'سیرین ...
مشرق وسطی -
شام میں شہری اور عسکری اداروں کی ریاستی اداروں میں شمولیت ، سعودی عرب کا خیر مقدم
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق مملکت اس معاہدے پر دستخط کیے جانے کا خیر مقدم کرتی ہے ...
مشرق وسطی -
شام کے لیے ہر قسم کی مدد جاری رکھیں گے : طیب ایردوآن
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کو ہر طرح کی مدد دینا جاری ...
بين الاقوامى