ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے ورنہ پھر اپنا کام مکمل کر دیں گے: ٹرمپ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کو ایک بار پھر کہا ہے "امریکہ کا یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ ہوگا، بصورت دیگر امریکہ اپنا کام پایہ تکمیل کو پہنچا دے گا۔'

انہوں نے ایران کو سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین کے تناظر میں بھی ایران کی طرف سے مزاحمتی انداز اپنائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے۔


امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ انداز میں ہونے والے ایک تکنیکی مذاکراتی دور کا اختتام پچھلے ہفتے دوحہ میں ہوا ہے۔ یہ مذاکراتی عمل اس مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کا 'فالو اپ' ہیں۔ 'فالو اپ' نوعیت کے اس مذاکراتی عمل کو 60 دنوں میں مکمل کیاجانا ہے تاکہ ایک حتمی معاہدہ کیا جاسکے۔ لیکن صدر ٹرمپ کو تشویش ہے کہ ایران ابھی تک مزاحمتی انداز میں ہے۔

اس پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ' ہم یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے یا پھر اپنا کام مکمل کریں گے۔ اگر ایسا ہی تو ہمارے لیے اپنا کام مکمل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ معاہدہ اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ 91 ملین کی ایرانی آبادی پر اثرات نہ آئیں۔' وہ اوول آفس میں رپورٹرز سے بات چیت کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے کہا ہم ایران کے پلوں کو ایک گھنٹے میں تباہ کر سکتے ہیں اور ان کی ساری توانائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب رقم بھی نہیں ہے ، نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مزید رقم دی ہے۔ امرکی صدر نے یہ بات علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق سرگرمیوں کے شروع ہونے کے بعد کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا امریکہ اسرائیل کے 28 فروری کے حملے کے نتیجے میں ایران کمزور ہو گیا تھا مگر اس تدفین کے ماحول میں ایران پھر مزاحمتی انداز میں نظر آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size