سعودی عرب میں رمضان: تارکینِ وطن کو 'اسلام کی سرزمین' پر ماہِ مقدس کیوں منانا پسند ہے؟

روحانی اعمال اور محافل سے تمام قومیتوں کے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب میں بہت سے مسلم تارکینِ وطن اپنے اہلِ خانہ اور آبائی ممالک سے دور رہنے کے باوجود رمضان المبارک کے دوران "سرزمینِ اسلام" میں گذارے گئے وقت کو پسند کرتے ہیں۔

دو عشروں سے زیادہ عرصے سے ریاض میں مقیم ہندوستانی گھریلو خاتون نفیسہ عثمانی نے کہا، "ماہِ مقدس کو اسلام کی سرزمین پر گذارنے والے تارکینِ وطن روحانی اطمینان اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ ذاتی تجربات کے لحاظ سے بھی خوش قسمت ہیں اور جو لوگ مملکت میں نئے ہیں، ان کے لیے ایک بالکل نئے تجربے کے طور پر بہت کچھ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "آپ جہاں کہیں بھی جائیں، یہاں رمضان کی رونقوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔ رمضان کے دوران رات کے وقت سڑکیں پرہجوم ہو جاتی ہیں اور دن کے دوران پھیکا ماحول رات میں زندہ ہو جاتا ہے۔ میں یہاں اپنے کئی عشروں کے تجربے سے کہہ سکتی ہوں کہ رمضان میں وقت گذارنے اور اس جذبہ کو منانے کے لیے سعودی عرب سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہے جس میں مسجد میں جا کر نمازِ تراویح ادا کرنے کا موقع بھی شامل ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "رمضان مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل وقت ہے اور اسے سعودی عرب میں بڑی اہمیت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ آپ کو یہاں قیام کے دوران حجازِ مقدس جانے اور عمرہ و زیارت کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔"

انہی جذبات کا اظہار لبنانی تارکِ وطن فرح فواد نے کہا، میں مقدس مہینے کی خصوصی اہمیت کی وجہ سے سعودی عرب میں ایک اور رمضان منانے کے لیے بہت پرجوش ہوں۔

انہوں نے مزید کہا، "اسلام کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے آپ یہاں ہر جگہ رمضان کی روح کو محسوس کر سکتے ہیں۔"

ریاض میں ایک اور ہندوستانی گھریلو خاتون عفت آبرو نے کہا: "یہاں رمضان گذارنا بہت اچھا لگتا ہے۔ بازار سحری تک کھلے رہتے ہیں۔ یہاں سڑکوں پر ان لوگوں کی رونق اور ہجوم رہتا ہے جو عید الفطر کی تیاری کے لیے خریداری کر رہے ہوں۔ ہوٹل رمضان خیموں کے وسیع انتظامات کرتے ہیں جہاں پکوان کے ساتھ ساتھ آرائش بھی ہوتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، رمضان صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ ایک ثقافتی رجحان بھی ہے جو روحانیت اور سماجی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔

اپنا تجربہ بتاتے ہوئے ینبع میں رہنے والی ایک پاکستانی مصنفہ عنبرین فیض نے عرب نیوز کو بتایا: "میں گزشتہ 27 سالوں سے سعودی عرب میں رہ رہی ہوں۔ جب میں پہلی بار 1998 میں ریاض پہنچی تو مملکت میں ماہِ رمضان کی تقریبات کا مشاہدہ کرنا مسحور کن تھا۔ ہر مسلمان رمضان کے مقدس مہینے کی آمد کا بے چینی سے انتظار کرتا ہے۔"

 ریاض میں ہندوستانی کمیونٹی کی افطار پارٹی۔ (فراہم کردہ)
ریاض میں ہندوستانی کمیونٹی کی افطار پارٹی۔ (فراہم کردہ)

انہوں نے مزید کہا: "میں کئی پاکستانی خواتین کے بارے میں جانتی ہوں جو مقدس مہینہ آنے پر اتنی ہی پرجوش ہو جاتی ہیں جیسے میں۔ ہم رمضان کے دوران چھٹیوں پر نہیں جانا چاہتیں اور درحقیقت رمضان کا استقبال کرنے اور اس کے ساتھ آنے والی تہواروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے مملکت میں ہی رہنا چاہتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم خواتین دوست افطار پارٹیوں کے پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ اور ہم رمضان کے پاکستانی پکوان تیار کرتی ہیں - چنے، پکوڑے، سموسے، دہی بڑے، فروٹ چاٹ اور کیا کچھ ہوتا ہے۔ ایسے پکوان ہر عمر کے لوگ پسند کرتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔"

ریاض میں سری لنکن تارکینِ وطن کا افطار دسترخوان۔ (فراہم کردہ)
ریاض میں سری لنکن تارکینِ وطن کا افطار دسترخوان۔ (فراہم کردہ)

فیض نے کہا، "رمضان میں بچوں کو بہت مزہ آتا ہے خاص طور پر جب ہم عمرہ کرنے حرمین جاتے ہیں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے ہمیں سعودی عرب میں رہنے اور رمضان کی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا ہے۔"

ایک پاکستانی محمد نعیم نے کہا، "سعودی عرب میں رمضان برِصغیر یا کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ میں ہمیشہ یہاں رمضان گذارنے کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ ہر چیز بہت ہموار ہوتی ہے اور رمضان میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بہت زیادہ لگن ہوتی ہے۔ لوگ درحقیقت ماہِ مقدس کی اصل قدر جانتے ہیں اور وہ یہاں اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔"

ایک پاکستانی کا افطار دسترخوان۔ (فراہم کردہ)
ایک پاکستانی کا افطار دسترخوان۔ (فراہم کردہ)

کئی تارکینِ وطن کے لیے رمضان اکثر گھر اور مملکت کی روایات کے امتزاج سے ہوتا ہے۔

مشرقی صوبے میں کام کرنے والے ایک سری لنکن افتخار انصاری نے عرب نیوز کو بتایا: "ہمیں رمضان کے دوران یہاں رہنا پسند ہے اور ہم سری لنکا اور سعودی پکوان کے امتزاج سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سری لنکا میں افطار کے کھانے میں ذائقوں اور روایات کے ایک خاص امتزاج نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے افطار میں ایک روایتی ڈش چاول اور ناریل سے بنا دلیہ ہوتا ہے جس میں اکثر گائے کے گوشت یا چکن کے ساتھ ساتھ ایک مصالحے دار مرچ چٹنی بھی شامل ہوتی ہے۔ کھجور کے ساتھ یہ ہمارے افطار کا ایک لازمی جزو ہے اور بعض سعودی پکوان ایک معمول ہیں اور کبابوں اور کچوری جیسے دیگر پکوانوں سے افطار کا لطف مزید بڑھ جاتا ہے۔"

انصاری نے کہا، "پیاس بجھانے کے لیے سیب، انناس اور ناریل پر مشتمل پھلوں کے جوس پسندیدہ ہیں جو روزے کے صحت مند اور تازگی بخش اختتام کو یقینی بناتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں