لبنان میں 27 نومبر کو فائر بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے فضائی ، زمینی اور سمندری راستوں سے لبنانی خود مختاری کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسری جانب لبنان نے سرکاری طور پر فائر بندی معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 کی مکمل پاسداری کی ہے۔
لبنانی فوج ملک کے جنوب میں اپنی پوری ذمے داریاں انجام دے رہی ہے۔ با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ دریائے لیطانی کے جنوب کا علاقہ "حزب اللہ" کے عسکری وجود سے پاک ہو چکا ہے۔ فائر بندی معاہدہ دستخط ہونے کے بعد سے علاقے میں کوئی "چھوٹا" ہتھیار تک داخل نہیں ہوا۔
لبنانی فوج نے ہزاروں ہتھیار اور ہر قسم کا گولہ بارود برآمد کر کے تباہ کر دیا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ لبنانی فوج جنوبی لیطانی کے علاقے میں تعینات ہے۔ اس وقت 6 ہزار فوجی مختلف مراکز پر تقسیم ہیں۔ لبنانی حکومت کے منظور شدہ منصوبے کے تحت یہ تعداد 10 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ یاد رہے کہ لبنانی فوج اسرائیلی وجود کے باعث اپنے تمام مراکز تک نہیں پہنچ سکی۔
اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی 2500 سے زیادہ خلاف ورزیاں
ذرائع کے مطابق اسرائیل ہے جو معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فائر بندی معاہدہ نافذ العمل ہونے کے بعد سے اسرائیل نے زمینی، بحری اور فضائی طریقے سے 2500 سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں۔ اسرائیلی فوج طاقت کے زور پر جنوبی لیطانی کے علاقوں پر قابض ہے اور مقامی آبادی کو واپس آنے سے روک رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جاسوسی کے درجنوں آلات چھوڑ کر گئی ہے اور انجینئرنگ کور کی ٹیمیں انھیں ناکارہ بنا رہی ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے لبنان کو دی گئی مہلت غیر محدود نہیں ہے، امریکہ آغاز کے لیے جلدی دکھا رہا ہے"۔
لبنان نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے 4 لبنانی شہری قیدیوں کو وصول کیا۔ اس کے علاوہ ایک لبنانی فوجی کو بھی واپس کیا گیا جو کفرکلا میں زخمی ہو گیا تھا۔