سعودی عرب : امریکہ اوریوکرین کے درمیان مذاکرات جاری، پیش رفت کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ اور یوکرین کے حکام کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے۔ یہ مذاکرات سعودی عرب کی میزبانی میں جاری ہیں۔ اتوار کے روز شروع ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد روس اور یوکرین کے درمیان تین سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔

تاہم کریملن نے خبردار کیا ہے کہ ' یہ بڑے مشکل مذاکرات ہیں اور امن کے لیے ایک لمبا سفر طے کرنا ہو گا۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس مذاکراتی عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ کئی برسوں پر پھیلی یہ جنگ رک سکے۔ سعودی عرب میں اسی مقصد کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

علاوہ ازیں امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان تکنیکی امور سے متعلق کی بات چیت الگ سے جاری رہے گی۔ امکان ہے ان کوششوں کے نتیجے میں روس اور یوکرین کے درمیان عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اس کے باوجود کہ دونوں اطراف سے جنگ بندی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ تاکہ ایک عارضی جنگ بندی ممکن ہو جائے۔ لیکن اتوار کے روز روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بمباری کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ یوکرینی ڈرون حملے میں دو روسی بھی ہلاک کر دیے گئے ہیں۔

حقیقی طور پر ان مذاکرات کے لیے ' شٹل ڈپلومیسی' کے انداز میں تیز رفتاری سے آگے بڑھنے والے مذاکرات کا طے کیا گیا تھا۔ لیکن امریکہ کے موقف اور رفتار کے آگے پیچھے ہو جانے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔

اب مذاکرتی وفود عارضی جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ عارضی جنگ بندی ایک کے بعد دوسری صورت میں ممکن ہوتی رہے۔

یوکرین مذاکراتی وفد کی قیادت وزیر دفاع یوکرین رستم عمروف کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاض میں اپنی موجودگی کے دوران فیس بک پیج پر لکھا ہے ' جاری مذاکراتی ایجنڈے میں توانائی سے متعلق تنصیبات کا تحفظ اور اہم انفراسٹرکچر بھی شامل ہے۔ ہماری ٹیم مذاکرات میں کئی قسم کے تکنیکی امور کو بھی دیکھ رہی ہے۔'

خیال رہے روس امریکہ کے درمیان مذاکرات پیر کے روز متوقع بتائے گئے تھے۔ امریکی خصوصی نمائندہ سٹیو ویٹکوف نے خوش امیدی ظاہر کی ہے کہ معاہدہ کی طرف عملی پیش رفت ہوجائے گی اور ایک مکمل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی۔

انہوں نے کہا 'میرا خیال ہے آپ سعودی عرب میں پیر کے روز حقیقی پیش رفت دیکھیں گے۔ خاص طور پر بحیرہ احمر میں دنوں ملکوں کے بحری جہازوں پر جنگ بندی دیکھیں گے۔' وہ 'فاکس نیوز' سے گفتگو کر رہے تھے۔

تاہم روس کی طرف سے اتوار کے روز توقعات کو کم کر کے پیش کیا گیا ہے کہ کوئی تیز رفتار پیش رفت ممکن ہے۔ روس نے کہا ہے کہ 'ابھی ہم ابتدائی سطح پر ہیں۔ راستے پر چلنے کی ابھی ابتداء ہوئی ہے۔' یہ بات روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے ریاستی ٹی وی کو بتائی ہے۔

انہوں نے کہا 'ابھی بہت سے سوال باقی ہیں جنہیں دیکھا جانا ہے کہ کس طرح ان کو طے کیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے۔'

روس کے صدر ولادیمیر پیوتن نے امریکہ و یوکرین کی طرف سے 30 دنوں کے لیے مکمل جنگ بندی کے وقفے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

دمتری پیسکوف کے مطابق ہم مشکل مذاکرات سے گزر رہے ہیں۔ ان کا یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔

بحیرہ احمر

روسی ترجمان نے مزید کہا کہ مذاکرات کا اصل ہدف امریکہ کے لیے 2022 کی طرح کی بحیرہ احمر کے لیے ایک ڈیل ہے۔ جس کے تحت محفوظ جہاز رانی ہو سکے اور یوکرینی اشیاء بحیرہ احمر کے راستے برآمد ہو سکیں۔

دونوں اطراف کا فائدہ

روس کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ روس پر دباؤ ڈالیں۔ اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی گئی پوسٹ میں انہوں نے کہا 'جنگ کو ختم کرنے کے لیے ماسکو پر نئے فیصلوں اور دباؤ کی ضرورت ہے۔'

روس کے مطابق رات کے اوقات میں 60 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ حکام کے مطابق روس کے جنوبی روستوف کے علاقے میں ڈرون مار گرانے کی کارروائی کے دوران ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس شخص کی ہلاکت ڈرون کا ملبہ اس کی کار پر گرنے سے ہوئی کہ اس کی گاڑی اس کے نتیجے میں جل گئی۔ علاوہ ازیں بیلگوروڈ میں ایک خاتون ہلاک ہوئی ہے۔

یوکرینی فوج کے مطابق مشرقی لوہانسک کے گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ فوج کی اہم کامیابی ہے۔

پیسکوف نے کہا 'ملک کے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات کو زیادہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہمارا کچھ معماملات پر اختلاف ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم باہمی فائدے سے اپنے آپ کو محروم رکھیں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں