جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں جنگ دوبارہ چھیڑنے کے بعد اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی پریشانی اور خوف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ کہ اسرائیل کی بمباری سے ان کے پیاروں کی زندگیاں بھی ایک بار پھر خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
قید کیے گئے ای کاسرائیلی فوجی کی والدہ بھی انہی پریشان اور خوف زدہ اہل خانہ میں سے ایک ہروت نمرودی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اسرائیلی بمباری کا نیا تسلسل ان کے بیٹے کی جان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
فوجی کی والدہ پروت نمرودی کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا ' غزہ میں قید ہمارے بچے خطرے میں ہیں۔ ' میرا بیٹا صرف 18 سال کا تھا جب اسے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکری ونگ نے گرفتار کیا۔ مگر ہم زیادہ نہیں جانتے کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے غزہ میں بڑھے ہوئے جنگی جارحیت نے ہمارے اپنے ہی بچوں کو بھی سخت خطرے میں ڈال دیا ہے۔ '
واضح رہے تامر نامی یہ اسرائیلی فوجی ان 251 قیدیوں میں شامل ہے جنہیں سات اکتوبر 2023 کو حماس کے عسکری ونگ نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ ان میں سے 58 اسرائیل اب بھی غزہ میں قید ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان ساڑھے پندرہ ماہ کی جنگ کے بعد ایک جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں 19 جنوری سے جنگ بندی کا پہلا مرحلہ شروع کیا تھا۔ مگر اس پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا حصہ بننے کے بجائے اسرائیل نے 18 مارچ کو پھر سے جنگ شروع کر دی۔ غزہ میں دوبارہ بد ترین بمباری جاری ہے،اس لیے اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کو خطرہ ہے کہ ان کے پیارے بھی اسرائیلی فوج کی اپنی ہی بمباری سے ہلاک ہو جانے کا خطرہ ہے۔
نمرودی نے بتایا کہ ان کا بیٹا ' کوگیٹ ' سے منسلک فوجی تھا۔ یاد رہے ' کو گیٹ' اسرائیلی فوج کا ایک ادارہ ہے جو سمندر پار شہریوں کے امور اور فلسطینی علاقوں میں موجود یہودیوں کے معاملات سے متعلق ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کا اصرار ہے کہ حماس کی قید میں موجود اسرائیلیوں کو ،مردہ یا زندہ رہا کرنے پر مجبور کرنے کا واحد راستہ فوجی دباؤ میں اضافہ ہے
نمرودی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں ہونے والے اسرائیلی شہر تل ابیب میں باقاعدگی سے شریک ہوتی ہیں۔ نمرودی نیتن یاہو کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی نیتن یاہو کی ترجیح نہیں ہے۔
ایک اور اسرائیلی قیدی کے والد تزویکا مور ہیں۔ جن کے بیٹے کو نووا کے میوزک فیسٹیول سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے ذریعے قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہے ۔ اس مسئلے کو صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ حماس کبھی بھی اسرائیلی قیدیوں کو اسرائیلی جنگی دباؤ کی وجہ سے رہا نہیں کرے گا۔' مور ' ٹکوا فورم' کے ایک بانی 'ٹکوا 'کا مطلب عبرانی زبان میں امید ہے۔
مور نے کہا' جب بھی حماس کہتی ہے 'ٹائم آؤٹ' حکومت تمام قیدیوں کو ایک ساتھ رہا کر انے کے لیے دباؤ بڑھانے کے بجائے مذاکرات کرتی ہے۔'
تاہم دانی میران جیسے دوسرے، جن کے 48 سالہ بیٹے عمری کو کبوتز نہال اوز میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا، اس سے متفق نہیں ہی'یہ خوف ہے کہ ہمارے اپنے ہی بچوں کو اسرائیلی حملوں سے نقصان پہنچے گا۔'
80 سالہ میران نے کہا' جب اسرائیلی فوج غزہ پر حملہ کرتی ہے تو غزہ میں قید ہمارے اپنے بچوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششوں نے انہیں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے زیادہ پر امید اور مضبوط بنا دیا ہے۔ ہم نےکچھ ہی روز اپنی پوتی الما کی دوسری سالگرہ منائی ہے۔ یہ میری سب سے چھوٹی پوتی ہے۔ میں اپنے بیٹے کو بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح پورا ملک اس کی رہائی کے لیے کوشش کر رہا ہے