ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے گذشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا ایک "تاریخی موقع" کھو دیا۔ اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق یہ موقع اس وقت ہاتھ آیا تھا جب اسرائیل نے مذکورہ تنصیبات کے فضائی حفاظتی دفاعی نظام کو مؤثر طریقے سے ناکارہ بنا دیا تھا۔
اخبار نے آج اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اپریل 2024 میں ایران نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی اختیار کی۔ اس نے اسرائیل پر 180 بیلسٹک اور درجنوں کروز میزائل داغنے کے علاوہ 170 ڈرون طیارے بھی اس کی سمت بھیجے۔
اسرائیل نے اس کا جواب سوچھ سمجھ کر کیے جانے والے حملے سے دیا۔ اس میں اصفہان میں واقع ایک S-300 طرز کا ایرانی فضائی دفاعی نظام نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر 2024 میں ایران نے ایک اور حملہ کیا، مگر اسرائیل کی جانب سے اس کے جواب میں جو فیصلہ کیا گیا، اسے اسرائیلی ذرائع ایک "تاریخی موقع کا ضیاع" قرار دے رہے ہیں۔
اس وقت اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت نے بند دروازوں کے پیچھے تین اہم اجلاس منعقد کیے۔
ان اجلاسوں میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اسرائیل نے 26 اکتوبر کے اپنے حملے کے بعد یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہ ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اسرائیل نے صرف S-300 دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے پر اکتفا کیا اور جوہری تنصیبات کو چھوڑ دیا۔
اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ایران کی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی، جو پہلے سات روز میں 14 میزائل تیار کر سکتا تھا، یہ صلاحیت صرف ایک تک محدود ہو گئی۔
اس کے باوجود اسرائیل نے جوہری تنصیبات پر حملے سے گریز کیا۔ اس کی بڑی وجہ "دیگر محاذوں پر جاری لڑائیاں" تھیں۔
لبنان میں حزب اللہ جنوبی اسرائیل پر روزانہ راکٹ داغ رہی تھی۔
غزہ میں حماس ابھی تک برسرِ پیکار تھی اور اس کے پاس تقریباً 100 اسرائیلی قیدی تھے جن میں سے آدھے زندہ تھے۔
یمن سے حوثی بھی تقریباً روزانہ اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ رہے تھے۔
بعض اعلیٰ اسرائیلی ذمے داران کے مطابق، ان تمام محاذوں پر جنگ بندی کا حصول وقتی طور پر، ایران پر حملے سے زیادہ اہم تھا۔
ذمے داران نے مزید کہا کہ ماضی میں اسرائیل نے خفیہ طریقوں سے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے رکھا، اور آئندہ بھی روک سکتا ہے۔
ان ذرائع کے مطابق، ایک ممکنہ درمیانی مدت کا جوہری معاہدہ اسرائیل کو وقت فراہم کر سکتا ہے، جو 2019 کے بعد ایرانی جوہری پیش رفت کو پہلی بار مؤخر کرے گا۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر، اسرائیل نے گذشتہ سال ایرانی جوہری تنصیبات پر براہِ راست حملہ کرنے سے اجتناب کیا۔
یہ انکشافات امریکی ذرائع کے اس بیان کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے سے روک دیا تھا، حالاں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بارہا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔