کویت میں قانون میں تبدیلی ، اغوا شدہ لڑکی سے شادی کے باوجود اغوا کار کو سزا لازم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کویت میں ایک اہم قانونی اور اصلاحی اقدام کے تحت فوجداری قانون کی شق 182 کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ شق اغوا کے مجرم کو اس وقت سزا سے بری کر دیتی تھی جب وہ اغوا شدہ لڑکی سے شادی کر لیتا۔

کویتی وزیرِ انصاف ناصر السمیط نے تصدیق کی ہے کہ کابینہ کی جانب سے منسوخ کی گئی یہ شق نہ صرف آئین کے منافی تھی، بلکہ اسلامی شریعت سے بھی متصادم تھی۔ انھوں نے روزنامہ القبس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اکثر یہ ہوتا تھا کہ ملزم اغوا شدہ لڑکی سے شادی کرتا، مقدمہ بند ہونے کے کچھ ہی ہفتوں بعد اسے طلاق دے دیتا، جس سے لڑکی کو شدید نقصان پہنچتا اور معاشرے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے"۔

السمیط نے بتایا کہ اس شق کے خاتمے کی ایک اہم بنیاد وزارتِ اسلامی امور کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ تھا، جس میں اسے شریعت کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔ ساتھ ہی یہ شق آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں اور متعلقہ منشوروں سے بھی متصادم تھی۔

وزیر نے واضح کیا کہ اس اقدام سے اغوا کے جرائم پر مؤثر روک لگائی جا سکے گی، اور مجرموں کو کسی بھی حیلے بہانے سے سزا سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ قانون میں ایک مثبت تبدیلی ہے جو جدید تقاضوں اور انصاف کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے، اور اس کا مقصد متاثرہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ شق 182 میں درج تھا کہ "اگر اغوا کرنے والا، اغوا شدہ لڑکی سے ولی کی اجازت سے شرعی طور پر شادی کر لے، اور ولی سزا نہ دینے کی درخواست کرے تو اس پر کوئی سزا لاگو نہیں ہو گی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں