2025 کی پہلی سہ ماہی: سعودی عرب کی آمدنی 263.6 بلین ریال ریکارڈ
تیل کی آمدن 18 فیصد کمی کے بعد 149.8 بلین ریال، غیر تیل کی آمدن 2 فیصد اضافہ سے 113. بلین رہی
سعودی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب کی کل آمدنی تقریباً 263.616 بلین ریال رہی جس میں 149.8 بلین ریال تیل کی آمدنی شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار اس وقت آئے ہیں جب مملکت اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور طویل مدتی مالیاتی استحکام کو بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران بجٹ خسارہ 58.701 بلین ریال ریکارڈ کیا گیا جو اقتصادی ترقی کو تیز کرنے اور "سعودی ویژن 2030" کے تحت بڑے منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لیے مملکت کے منصوبوں کے تحت سرکاری اخراجات میں اضافے کی عکاسی کر رہا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں اخراجات کی مالیت 322.3 بلین ریال رہی۔ سعودی عرب اپنی مالیاتی پالیسیوں کے ذریعے ترقیاتی اخراجات اور خسارے کے انتظام کے درمیان توازن قائم کرنے، غیر تیل کے شعبوں کی مدد جاری رکھنے اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آمدنی، منافع اور سرمائے کے فوائد پر ٹیکس سے 6.7 بلین ریال حاصل ہوئے ہیں۔ سعودی بجٹ میں غیر تیل کی آمدنی میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 113.8 بلین ریال تک پہنچ گئی۔ تیل کی آمدنی میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔
پہلی سہ ماہی میں سرکاری اخراجات میں 5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 322.3 بلین ریال تک پہنچ گئے۔ تعلیم پر اخراجات میں 5 فیصد اور صحت اور سماجی ترقی کے اخراجات میں 19 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک کے عمومی ریزرو نے 390 بلین ریال سے اوپر اپنا بیلنس برقرار رکھا۔