ایک طرف امریکہ غزہ کے لیے انسانی امداد کی نئی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دیتے ہوئے امداد کی بحالی کو ’بیوقوفی‘ اور ’غیر اخلاقی‘ قرار دے دیا۔
بن گویر نے جمعے کو دیے گئے بیان میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محصور غزہ کو امدادی سامان کی فراہمی سے فوری طور پر دستبردار ہو اور آئندہ کابینہ اجلاس میں اس ’تباہ کن‘ فیصلے کو واپس لے۔
بن گویر نے کہا کہ "جب اسرائیلی قیدی بھوکے پیاسے ہیں، تب غزہ کے لوگ امداد کے ٹرک وصول کر رہے ہیں، یہ ناقابل قبول ہے"۔
ان کا کہنا تھاکہ "جب تک قیدیوں کو رہا نہیں کیا جاتا، تب تک غزہ کو کسی قسم کی انسانی امداد نہیں دی جانی چاہیے"۔
دوسری جانب امریکہ کے اسرائیل میں سفیر مائیک ہکابی نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ اسرائیل اور حماس امداد کی تقسیم میں براہ راست شریک نہیں ہوں گے، تاہم اسرائیل نئی حکمتِ عملی کے تحت سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گا۔
واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے اکتوبر 2023 میں حماس سے جنگ کے آغاز کے بعد غزہ کے لیے زیادہ تر امدادی سامان بند کر دیا تھا۔
اگرچہ جنوری 2025 میں مختصر جنگ بندی کے دوران چند امدادی ٹرک داخل ہونے دیے گئے، لیکن مارچ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد مکمل طور پر امداد کی ترسیل روک دی گئی ہے، جس سے غزہ کے باسی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔
-
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کی، پیش رفت نہیں ہوئی: حماس
حماس کے ایک وفد نے بدھ اور جمعرات کو دوحہ میں مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ غزہ کی ...
مشرق وسطی -
غزہ میں کئی فریق امداد تقسیم کریں گے: اسرائیل میں امریکی سفیر کا اعلان
اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کے لیے ایک نئے ادارے کے ...
بين الاقوامى -
غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کا اسرائیلی منصوبہ غیر قانونی ہوگا: ناروے، آئس لینڈ
اسرائیل کے فلسطینیوں کو غزہ سے جبری طور پر نکالنے اور غزہ کی ناکہ بندی کو جاری ...
مشرق وسطی