ایمیزون کی حمایت یافتہ سکیل اے آئی سعودی عرب میں دفتر کھولے گی
خلیجی ریاستوں کی اقتصادی تنوع کے لیے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری
ایمیزون کا حمایت یافتہ ایک اسٹارٹ اپ سکیل اے آئی جو کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات تیار کرنے میں مدد کرتا ہے، ایک وسیع تر علاقائی توسیع کے سلسلے میں اس سال کے آخر تک سعودی عرب میں ایک دفتر کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی کے ترجمان نے ریاض کے مقام پر دفتر کے منصوبے کی تصدیق کی اور کہا، سکیل اے آئی متحدہ عرب امارات میں ایک اور دفتر کھولے گا لیکن انہوں نے اس کا وقت بتانے سے انکار کر دیا۔
سکیل اے آئی کے عالمی مینیجنگ ڈائریکٹر ٹریور تھامسن نے ایک انٹرویو میں کہا، "امریکہ اور چین سے باہر میرے خیال میں یہ واقعی اے آئی ٹیکنالوجی اختیار کرنے کے لیے تیز ترین ترقی کرنے والا خطہ ہے۔"
سٹارٹ اپ کی شرقِ اوسط میں توسیع اس وقت ہوئی ہے کہ جب تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے لیے وہ سٹارٹ اپس، ڈیٹا سینٹرز اور کمپیوٹنگ وسائل میں اربوں ڈالر لگا رہی ہیں۔ اس مقصد کے ساتھ سعودی عرب اور ہمسایہ ریاستوں نے تیزی سے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ خطے میں دفاتر کھولیں اور لوگوں کو ملازمت دیں۔ مثلاً سیلز فورس انکارپوریشن نے حال ہی میں مملکت میں 500 ملین ڈالر کی طے شدہ سرمایہ کاری کے لیے خدمات حاصل کرنا شروع کر دیں۔
نو سال قبل قائم کردہ سکیل اے آئی ڈیٹا کے ریمز کو صاف اور لیبل کرنے کے لیے کنٹریکٹ ورکرز کی فوج پر انحصار کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا چیٹ بوٹس اور دیگر مصنوعات بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کارپوریشن صارفین ہیں۔ گذشتہ سال سٹارٹ اپ ایک بلین ڈالر کے فنڈنگ راؤنڈ کے ساتھ 13.8 بلین ڈالر کی ویلیویشن تک پہنچ گیا جس میں ایمیزون، میٹا پلیٹ فارمز انکارپوریشن اور دیگر کارپوریٹ حمایتی شامل تھے۔
بلومبرگ نے اپریل میں اطلاع دی کہ سکیل اے آئی نے 2024 میں تقریباً 870 ملین ڈالر کی آمدنی حاصل کی اور ایک ٹینڈر کی پیشکش کے لیے اس کی بات چیت جاری ہے جو اس کی قیمت تقریباً دوگنا کر دے گی۔
فروری میں سکیل اے آئی نے حکومتی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے قطر کے ساتھ پانچ سالہ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اگلے مہینے سٹارٹ اپ نے ابوظہبی ٹیک گروپ جی 42کے ریسرچ یونٹ انسیپشن کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ان کی انتظامیہ برآمدی کنٹرول ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو جدید ترین اے آئی چپس کی فروخت پر پابندی تھی۔
سکیل اے آئی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر مائیکل کراتسیوس اس وقت ٹیکنالوجی پر ٹرمپ کے معاون کے طور پر کام کر رہے ہیں۔