حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی عیدان الیگزینڈر کو رہا کر دیا
امریکی نژد اسرائیلی فوجی نے حماس کی قید میں 584 دن گزارے اور بالکل تندرست حالت میں واپس لوٹے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی عیدان الیگزینڈر کو رہا کر دیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایک اسرائیلی عہدے دار نے الیگزینڈر کی رہائی کی تصدیق کی لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
الیگزینڈر کو سات اکتوبر، 2023 کو حماس کے حملے کے دوران جنوبی اسرائیل میں واقع اپنے فوجی اڈے سے قیدی بنایا گیا تھا جہاں سے اسے دیگر 250 یرغمالیوں کے ہمراہ غزہ لایا گیا تھا۔ حماس نے معاہدے کے تحت 21 سالہ عیدان الیگزینڈر کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا۔
امریکی نژد اسرائیلی فوجی نے حماس کی قید میں 584 دن گزارے اور بالکل تندرست حالت میں واپس لوٹے ہیں۔ ریڈ کراس امریکی نژاد عیدان الیگزینڈر کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرے گا جو اسے امریکا سے آئے ہوئے ان کے والدین سے ملائیں گے۔
ان کی رہائی اسرائیل کی جانب سے مارچ میں آٹھ ہفتے کی فائر بندی توڑنے کے بعد پہلی رہائی ہے، جس کے بعد اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد جان سے گئے۔ ٹی وی فوٹیج میں الیگزینڈر کی والدہ یائل الیگزینڈر اور دیگر رشتے داروں کو جنوبی اسرائیل کے فوجی اڈے پر پہنچتے دکھایا گیا۔
حماس امید ظاہر کی ہے کہ امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی کی رہائی سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ خیال رہے کہ یہ رہائی امریکا اور حماس کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ عیدان الیگزینڈر کی رہائی غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے آج کہا کہ یہ رہائی غزہ میں فائر بندی یا فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا سبب نہیں بنے گی۔ اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں نتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں تمام قیدیوں کی رہائی کے ممکنہ معاہدے پر مذاکرات ’گولہ باری کے دوران اور لڑائی میں شدت کی تیاریوں کے ساتھ‘ جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل نے کسی بھی قسم کی جنگ بندی یا دہشت گردوں کی رہائی کا کوئی وعدہ نہیں کیا، بلکہ صرف ایک محفوظ راہداری کی منظوری دی ہے جو عیدان کی رہائی ممکن بنائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ الیگزینڈر کی رہائی کا وعدہ غزہ کی پٹی میں ’فوجی دباؤ‘ کے نتیجے میں حاصل کیا گیا۔ ’ہم ایسے نازک دنوں میں ہیں جن میں حماس کے سامنے ایک ایسا معاہدہ رکھا گیا ہے جو ہمارے قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنا سکتا ہے۔‘