اسرائیلی فوج کا فلسطینی خواتین کا بھیس بدل کر غزہ میں خصوصی آپریشن جس میں ناکامی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پیر کی صبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک غیر متوقع کارروائی کے دوران اسرائیلی خفیہ خصوصی فورس کی خفیہ دراندازی نے اہل محلہ کو حیرت میں ڈال دیا، جب اچانک المریخ اسٹریٹ پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

یہ کارروائی اس وقت منظر عام پر آئی جب ایک اسرائیلی خصوصی ٹیم نے خود کو فلسطینی خواتین مہاجرین کے روپ میں پیش کرتے ہوئے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

نقاب پوش ’خواتین‘

عینی شاہدین کے مطابق ایک سفید رنگ کی بس جس میں مہاجر خواتین دکھائی دے رہی تھیں المریخ اسٹریٹ پر آ کر رکی۔ بس سے نو افراد اترے جن میں سے کچھ نے نقاب پہن رکھا تھا، جبکہ دیگر نے چہروں کو بے نقاب چھوڑ رکھا تھا۔ ان کے ساتھ سامان اور کمبل بھی تھے، جو انہیں عام مہاجرین ظاہر کر رہے تھے۔

تاہم جب یہ "خواتین" احمد سرحان کے گھر کے قریب پہنچیں جو "الناصر بریگیڈز" کے ایک نمایاں عسکری رہنما تھے تو اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ ان کے سامان میں اصل میں ہتھیاروں کے تھیلے چھپائے گئے تھے۔ اس انکشاف کے بعد جھڑپ شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں احمد سرحان جاں بحق ہو گئے۔

ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا کہ اسرائیلی فورس کا مقصد فلسطینی مسلح گروہوں کے ایک رہنما کو اغوا کر کے اس سے پوچھ گچھ کرنا تھی تاکہ خان یونس میں زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کا سراغ لگایا جا سکے، تاہم یہ مشن ناکام رہا اور قیدیوں کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں۔

خاتون اور بچوں کی گرفتاری

واقعے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے احمد سرحان کی اہلیہ اور بچوں کو حراست میں لے لیا۔ جائے وقوعہ پر ایک بیگ چھوڑا گیا، جس میں مہاجرین کی ذاتی اشیاء رکھی گئی تھیں تاکہ کارروائی کو عوامی نظروں سے چھپایا جا سکے۔ اس بات کی تصدیق جرمن خبر رساں ایجنسی نے بھی کی ہے۔

یہ واقعہ مقامی آبادی میں سخت بے چینی اور اضطراب کا باعث بنا اور ہر طرف خوف ہراس پھیل گیا۔

اسرائیلی فوج نے سرحان کے قتل یا اس پوری کارروائی پر کوئی واضح تبصرہ نہیں کیا، صرف ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ "عربات جدعون" کے تحت اپنی کارروائیوں کو غزہ کے مختلف علاقوں میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب "الناصر صلاح الدین بریگیڈز" جو کہ غزہ میں موجود مزاحمتی کمیٹیوں کا عسکری بازو ہے نے احمد سرحان کے قتل پر تعزیت کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں