اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو کہا کہ ایک ہفتے کی ناکہ بندی کے بعد غزہ کی امداد دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ اتحادیوں کے دباؤ کے بعد کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے اتحادیوں نے "فاقہ کشی کی تصاویر" کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے مخصوص قومیتوں کا ذکر کیے بغیر کہا کہ "اسرائیل کے "دنیا میں سب سے بڑے دوست" نے کہا تھا، ایک چیز ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم وسیع پیمانے پر بھوک کی تصاویر قبول نہیں کر سکتے۔ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم آپ کی حمایت نہیں کر سکیں گے۔"
نیتن یاہو نے کہا، "تو فتح حاصل کرنے کے لیے ہمیں کسی نہ کسی طرح مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔"
امداد کب دوبارہ شروع ہو گی، یہ بتائے بغیر انہوں نے کہا:جو امداد دی جائے گی، وہ "کم از کم" ہو گی۔
اسرائیل نے اتوار کے روز کہا کہ مارچ کے اوائل سے درآمدات پر مکمل پابندی کے بعد وہ جنگ زدہ علاقے میں امداد کی ترسیل دوبارہ شروع کر دے گا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایندھن، خوراک اور ادویات سمیت اشیا کی ناکہ بندی کا مقصد غزہ میں حماس گروپ پر دباؤ بڑھانا تھا۔
امداد پر ہفتوں کے وقفے سے گہرا اور پہلے سے ہی سنگین انسانی بحران پیدا ہوا اور ماہرینِ خوراک کی جانب سے قحط کی وارننگ دی گئی۔
نکتۂ نظر میں یہ تبدیلی اس وقت آئی جب اسرائیل نے ایک نیا حملہ شروع کیا جس کے دوران اس کا غزہ پر قبضہ، لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور علاقے کے اندر امداد کی محفوظ تقسیم کا منصوبہ ہے۔
اسرائیل کہتا ہے کہ یہ تمام طریقے اسرائیل کی شرائط پر حماس کو جنگ بندی معاہدے پر رضامندی کے لیے دباؤ ڈالنے کی غرض سے ہیں۔ اور جبکہ فریقین ممکنہ جنگ بندی پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے درمیان باقی ماندہ اختلافی نکات ختم کرنے میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔