مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے نائب نمائندہ نے لبنان سے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ' ڈو مور ' کا مطالبہ جاری رکھا ہے۔ موگان اورگس نے اس امر کا اظہار منگل کے روز کیا ہے۔
امریکی ذمہ دار نے یہ ' ڈو مور ' کا مطالبہ نومبر 2024 میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد کے حوالے سے کیا ہے۔
اس جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنے دریائے لیطانی کے پار سے پوزیشنیں خالی کرنا تھیں اور لبنانی فوج کو اس کی جگہ سنبھالنا تھی۔ نیز حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا تھا ۔ اسی طرح اسرائیلی فوج کو بھی جنوبی لبنان کے علاقہ خالی کر کے واپس جانا تھا۔
یاد رہے یہ معاہدہ امریکہ اور فرانس کی مدد سے ممکن ہوا تھا۔ اس لیے لبنان اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی بارہا کی جانے والی خلاف ورزیوں کی شکایت امریکہ اور فرانس سے کر چکا ہے۔ اسرائیل نے لبنانی سرحد کے اندر کئی پوزیشنیں خالی نہ کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ ان پوزیشنوں کو خالی نہیں کرے گا۔
تاہم امریکی نمائندے نے قطر اکنامک فورم سے اپنے خطاب کے دوران باور کرایا ہے کہ لبنان کو ' ڈو مور ' کی ضرورت ہے۔ وہ خطے میں امن کے لیے حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کی بات کر رہے تھے. ' ہم نے لبنان سے کہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرے۔ اس سے مراد محض جنوبی لیطانی علاقے میں غیر مسلح کرنا نہیں ہے۔ بلکہ پورے لبنان میں اسے غیر مسلح کرنا ہے۔'
اقوام متحدہ کے امن اہلکار بھی لبنانی سرحد پر موجود ہیں جو اس سارے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ امریکی نمائندہ نے اس موقع پر لبنان کے سیاستدانوں پر زور دیتے ہوئے کہا وہ یہ فیصلہ کریں کہ انہیں کیا کرنا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے پچھلے ماہ کہا تھا کہ ان کی حکومت نے جنوبی لبنان کے 85 فیصد علاقے پر اپنی سرکاری فوج تعینات کر دی ہے اور حزب اللہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے پانچ جگہوں پر اپنی فوجی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے۔