غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ آج ہفتے کے روز "العربیہ" کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی افواج نے رفح کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔
زخمیوں کو امداد دینے سے روک دیا گیا۔
نمائندے نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج نے شہری دفاع کو متاثرہ علاقوں میں زخمیوں کو طبی امداد دینے سے روک دیا۔ اسی طرح یہ بھی بتایا گیا کہ لاکھوں بے گھر افراد المواصی کے علاقے میں جمع ہو چکے ہیں، جب کہ دیر البلح شہر میں صرف چار تندور ہی کام کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ محصور غزہ میں خوراک کی شدید قلت کے باعث 14 ہزار بچوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے۔
یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب فلسطینی علاقے میں شہری دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اسرائیلی فوج نے شدید بم باری کی، جس میں رہائشی اپارٹمنٹس، خیمے، اور وہ مکانات نشانہ بنے جہاں بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔ ان حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 79 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
غزہ، بم باری اور بھوک کے درمیان موت کی لپیٹ میں، بچوں کی زندگیوں کو خطرہ
العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے خان یونس شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اسی طرح، شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں بھی ایسے گھروں اور عمارتوں پر بم باری کی گئی جن میں بے گھر افراد مقیم تھے۔
غزہ کے وسط میں واقع النصیرات کیمپ کے مغرب میں بھی بم باری ہوئی، جو جاری عسکری کارروائی کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی توپ خانے کی جانب سے ان علاقوں پر بھی شدید گولہ باری جاری ہے جہاں بے گھر افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں صفطاوی، سلاطین، تل الزعتر، اور شمالی غزہ میں انڈونیشی اور عودہ اسپتالوں کے اطراف شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج ان دونوں اسپتالوں میں زخمیوں اور عملے کا مسلسل چوتھے دن محاصرہ کیے ہوئے ہے، جس سے طبی امداد کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
شمال میں زمینی کارروائی میں وسعت، قحط کا بڑھتا ہوا خطرہ
زمینی طور پر اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں زمینی کارروائیوں میں وسعت دی ہے اور صفطاوی کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم دیا ہے، جو اس امر کی علامت ہے کہ جنوبی غزہ میں پہلے سے قائم "موراج راہ داری" کی طرح ایک نئی عسکری راہ داری قائم کی جا رہی ہے۔
دوسری طرف، اسرائیلی فوج نے کرم ابو سالم چوکی کے ذریعے محدود تعداد میں امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی ہے، جب کہ بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کی تنظیمیں چوکی کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ امدادی سامان کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
اس دوران، اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی "انروا" کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کی لوٹ مار کے مناظر نہ حیران کن ہیں اور نہ چونکانے والے، کیوں کہ وہاں کے عوام گزشتہ 11 ہفتوں سے بھوک کا شکار ہیں۔
مارچ سے اسرائیل نے غزہ میں ایک نئی جنگی مرحلے کا آغاز کیا ہے، جس میں دھاوے کی نئی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا، مذاکرات میں رعایت حاصل کرنا اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن بنانا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان کی منصوبہ بندی یہ ہے کہ وہ غزہ کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول حاصل کریں اور وہاں سے انخلا نہ کریں۔
-
امدادی ٹرکوں کی لوٹ مار، غزہ جنگ کا یہ ’ظالمانہ ترین مرحلہ‘ ہے: سربراہ اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی غزہ میں جنگ کا "ظالمانہ ترین ...
بين الاقوامى -
غزہ: فلسطینی خاتون ڈاکٹر کو ڈیوٹی کے دوران اپنے نو بچوں کی لاشیں موصول
غزہ کے الناصر میڈیکل کمپلیکس کے تحت چلنے والے التحریر ہسپتال میں تعینات ماہر اطفال ...
مشرق وسطی -
غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری، 24 گھنٹے میں 79 افراد کی اموات
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بم باری کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی شہری دفاع کے محکمے کے ...
مشرق وسطی