اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر فضائی حملے کیے ہیں اور کسی ممکنہ ایرانی ردعمل کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن سے کئی رہائشی علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹس کے مطابق، ان حملوں میں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی "رائٹرز" کو بتایا کہ نطنز کے قریب واقع ایرانی جوہری تنصیب کے آس پاس بھی کئی دھماکے سنے گئے ہیں۔
مباشر من #قناة_العربية | إسرائيل تشن هجوما على إيران.. ووزير الدفاع الإسرائيلي يعلن حالة الاستنفار في إسرائيل https://t.co/RuT3Nc3nL8
— العربية (@AlArabiya) June 13, 2025
سرکاری ایرانی ٹی وی کے مطابق، ملک بھر میں فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے "رائٹرز" کو بتایا کہ ایرانی قیادت نے سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
مراسل العربية: وزير الدفاع الإسرائيلي يعلن حالة الطوارئ في إسرائيل وصفارات الإنذار تدوي تحسبا لهجمات إيرانية#قناة_العربية#إسرائيل#إيران pic.twitter.com/cmZGebCUMs
— العربية (@AlArabiya) June 13, 2025
ادھر، اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف "احتیاطی ضرب" مار چکا ہے۔ ان کے بقول، ملک بھر میں سول دفاع کے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
العربیہ کے نمائندے کے مطابق، اسرائیلی وزیر دفاع نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ممکنہ حملوں کے خدشے کے باعث سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
کاٹز کا کہنا تھا کہ "ایران پر پیشگی حملے کے بعد توقع ہے کہ اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس سے شہریوں کو خطرات لاحق ہیں۔"
صور أولية متداولة لما قيل إنه وقوع انفجارات في إيران#قناة_العربية#إسرائيل#إيران pic.twitter.com/6krnOy6IO9
— العربية (@AlArabiya) June 13, 2025
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ "ایران کے جوہری منصوبے کو نشانہ بنانے کے لیے" کیا گیا، اور "پہلے مرحلے" میں ایرانی فوجی اور جوہری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
فوج نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ تعلیمی ادارے، اجتماعات اور دفاتر بند رکھے جائیں، اور صرف بنیادی سرگرمیاں جاری رہیں۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے "رائٹرز" کو بتایا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اس کے وجودی خطرے کو ختم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ کارروائی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے" اور ایران کی اعلیٰ قیادت بھی ان حملوں کا ہدف ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق، حملے میں ایک ایرانی جوہری تنصیب اور کئی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب، امریکی حکام نے "رائٹرز" کو بتایا ہے کہ "اسرائیل نے یہ حملے خود کیے" اور امریکہ نے اس کارروائی میں نہ تو شرکت کی اور نہ ہی کسی قسم کی مدد فراہم کی۔
"سی این این" نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔