ایرانی حجاج کے پہلے قافلے کی عرعر سرحدی گزر گاہ کے ذریعے سعودی عرب سے روانگی

اسپیشل آپریشن روم ایرانی حجاج کی روانگی کو آسان بنانے کے عمل کی نگرانی کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آج سعودی عرب کے شمالی علاقے میں واقع زمینی سرحدی گزرگاہ "جدیدہ عرعر" کے ذریعے ایرانی حجاج کے پہلے قافلے کی روانگی کا آغاز ہوا۔ یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ اور ایران کی فضائی حدود میں پروازوں کی معطلی کے باعث، ایرانی حجاج کی واپسی کو آسان بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ حج و عمرہ، تقریباً 76 ہزار ایرانی حجاج کی واپسی کی منصوبہ بندی اور نگرانی کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت حجاج کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے عرعر کے ہوائی اڈے تک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں سے وہ زمینی راستے سے ایران روانہ ہوں گے۔

وزارت حج کی فیلڈ ٹیموں نے ایرانی حجاج کی سرحدی گزر گاہ تک منتقلی میں سہولت کے لیے فوری کارروائیاں انجام دیں (تصویر : سعودی پریس ایجنسی)

اسی سلسلے میں سعودی عرب نے وزارتِ حج و عمرہ کے تحت ایک خصوصی آپریشن روم قائم کیا ہے، جو ایرانی حجاج کی صورتِ حال کی نگرانی کر رہا ہے اور ان کو چوبیس گھنٹے سہولیات اور خدمات فراہم کر رہا ہے، یہاں تک کہ وہ سعودی سرزمین سے روانہ ہو جائیں۔

یہ تمام اقدامات خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر عمل میں لائے گئے ہیں، جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے پیش کردہ تجویز کی بنیاد پر دی گئی تھیں۔ ان ہدایات کے مطابق، سعودی وزارتِ حج و عمرہ کو حکم دیا گیا کہ ایرانی حجاج کو تمام ضروریات اور خدمات فراہم کی جائیں، یہاں تک کہ ان کے ملک میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث ان کی واپسی کے لیے حالات سازگار ہو جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں