"کمانڈوز ایکشن".... ایران کی فوردو تنصیب پر حملے کا ایک اور اسرائیلی آپشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کا انتظار جاری ہے کہ آیا وہ ایران اور اسرائیل کی جنگ میں شامل ہوں گے یا نہیں ... اسرائیل نے بظاہر ایک متبادل راستہ تیار کیا ہے تاکہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیب فردو کو نشانہ بنا سکے۔ یہ تنصیب دار الحکومت تہران سے تقریباً 95 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور انتہائی مضبوط قلعہ بند مقام شمار ہوتی ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ٹرمپ انتظامیہ کو بتایا ہے کہ اگرچہ وہ پہاڑ کی اتنی گہرائی تک نہیں پہنچ سکتے جہاں فردو کا ری ایکٹر موجود ہے، یعنی وہ ہوائی حملوں کے ذریعے مکمل تباہی نہیں مچا سکتے ... تاہم وہ "یہ کام انسانی عناصر کے ذریعے کر سکتے ہیں"۔ اس کا مطلب کمانڈوز کے ذریعے در اندازی کی کارروائی ہے۔ یہ بات امریکی نیوز ویب سائٹ "axios" نے آج جمعرات کے روز بتائی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر نے حالیہ انٹرویوز میں اشارہ دیا کہ اسرائیلی فوج کے پاس فضائی حملوں سے آگے بھی کچھ آپشن موجود ہیں، جن میں ایک خطرناک مگر ممکنہ راستہ کمانڈوز کی کارروائی کا بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایرانی تنصیب اسرائیل کی جانب سے متعین کردہ اہداف میں سرفہرست شمار ہوتی ہے۔

قلعہ بند ٹھکانے توڑنے والے بموں کی کمی

تاہم اسرائیل کے پاس وہ قلعہ بند ٹھکانے توڑنے والے بم موجود نہیں جو 30 ہزار پاؤنڈ وزنی ہوتے ہیں اور جو فوردو کو فضائی طور پر تباہ کرنے کے لیے درکار ہیں ... اور نہ وہ بی-2 طیارے موجود ہیں جو یہ بم لے جا سکتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں صرف امریکہ کے پاس موجود ہیں۔

ٹرمپ کے مشیروں نے انھیں "آپریشن روم" میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں میں آگاہ کیا تھا کہ امریکہ کے پاس فردو کی تنصیب کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے، خاص طور پر اگر GBU-57 E/B بم کا استعمال کیا جائے، جو بی-2 اسپرٹ اسٹیلتھ بم بار کے ذریعے گرایا جاتا ہے۔

باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر اب بھی فردو پر حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کے آغاز میں اس حملے کی منظوری دے دیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز نے گزشتہ ستمبر میں شام میں زیرِ زمین ایک میزائل فیکٹری پر ایک مختصر کمانڈوز آپریشن انجام دیا تھا، جس میں دھماکا خیز مواد نصب کر کے اسے تباہ کر دیا گیا تھا۔

امریکی ویب سائٹ axios کے مطابق اب جب کہ اسرائیل ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور ایرانی فوج اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو سخت نقصان پہنچا چکا ہے، تو کمانڈوز کا یہ آپشن ماضی کی نسبت کم دشوار محسوس ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں