ایران کی جانب سے جمعرات کے روز جنوبی اسرائیل میں "سوروکا" اسپتال کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں شیشے کے ٹکڑے اور ملبہ فرش پر بکھر گیا۔ حملے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے، یہ دعویٰ اسرائیلی حکام کے بیانات میں کیا گیا ہے۔
تل ابیب کے مطابق، جنوبی اسرائیل کے ایک بڑے اور مرکزی اسپتال کو، جو تقریباً 10 لاکھ افراد کو طبی سہولتیں فراہم کرتا ہے، شدید نقصان پہنچا ہے۔
تباہی نے متعدد شعبوں کو مکمل طور پر لپیٹ میں لے لیا جب کہ ملبہ اسپتال کے پارکنگ ایریا اور اطراف کی گزرگاہوں میں بھی بکھر گیا۔
حملے سے قبل کیا ہوا؟
نسیم حوری، جو اسپتال کے باورچی خانے میں کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ جب حملہ ہوا تو وہ ایک کنکریٹ بنکر میں چھپ گئیں۔ انھوں نے کہا "ہم نے شور سے پہچان لیا کہ یہ معمول کی چیز نہیں، یہ کسی ایسی چیز جیسا تھا جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔"
انھوں نے اسے "خوف ناک" قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ بنکر سے باہر نکلیں تو جو مناظر دیکھے وہ "مکمل تباہی" تھے۔
اسپتال کے بعض عملے کا کہنا ہے کہ دھماکا نہایت شدید تھا۔ وہ جمعرات کی دوپہر اسپتال کے صحن میں بیٹھے، دھوئیں کے ستونوں کی وڈیوز بار بار دیکھ رہے تھے۔
اسرائیلی وزارتِ صحت کے مطابق، اس حملے میں 71 افراد زخمی ہوئے۔
اسپتال کے عملے نے مریضوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا اور متاثرہ حصے کو گھیرے میں لے لیا۔
پہلے سے حفاظتی اقدامات
برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسپتال نے گزشتہ چند دنوں میں ہنگامی اقدامات کے تحت کچھ عمارتوں سے مریضوں کو منتقل کرنا شروع کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے اسپتال صرف سنگین اور ہنگامی مریضوں کو ہی قبول کر رہا تھا۔
وزارتِ صحت کے ایک بیان کے مطابق، جس عمارت پر حملہ ہوا، اس میں موجود مریضوں کو حملے سے چند گھنٹے پہلے ایک زیرزمین عمارت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
امدادی کارکن یوجیف ویزمان، جو دھماکے کے فوراً بعد جائے وقوع پر پہنچے، نے کہا "میں نے مکمل تباہی دیکھی... پوری عمارت جل رہی تھی... سب کچھ زمین بوس ہو چکا تھا... میں افسردہ ہوں، یہ جگہ میرے لیے گھر جیسی ہے، اور انھوں نے ہمارا گھر تباہ کر دیا۔"
ایک اسرائیلی فوجی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ شروع میں اس نے "گھنا سیاہ دھواں" ہی دیکھا، اور بعد ازاں تمام منزلوں کی تلاشی لی گئی تاکہ جاں بحق یا زخمیوں کو ڈھونڈا جا سکے۔
اس فوجی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا "عمارت کو گزشتہ رات ہی عام شہریوں سے خالی کرا لیا گیا تھا۔"
فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کا دعویٰ
یاد رہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسپتال کے قریب اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کو نشانہ بنایا تھا۔
مگر ایک اسرائیلی فوجی عہدے دار نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کے آس پاس کوئی فوجی اہداف موجود نہیں تھے۔
اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اسپتالوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
اسرائیل نے گزشتہ جمعے کو ایران پر فضائی حملوں کا آغاز کیا، جنھیں اس نے "پیشگی دفاعی اقدام" قرار دیا تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔
ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے جوابی فضائی حملے کیے ہیں۔