گذشتہ ہفتے کے روز ایرانی جوہری سہولیات کو نشانہ بنانے والے بڑے امریکی حملوں کے بعد ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنی تنصیبات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔ ایرانی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے جوہری شعبے کے کام کی بحالی اور مرمت کے لئے پہلے سے انتظامات کیے ہیں۔
نقصان کے بارے میں ابہام
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایجنسی فی الحال اس نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو ایک بیان میں کہا کہ ہم نے پہلے سے ضروری اقدامات اٹھائے ہوئے ہیں۔ اب ہم نقصان کے سائز کا اندازہ کر رہے ہیں اور (جوہری سہولیات) کی بحالی کی تیاری ہمارے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ ہمارا مقصد پیداوار یا بحالی کی کارروائیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ سے بچنا ہے ۔
اصفہان، نظنز اور فردو کی ایٹمی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق ابھام برقرار ہے۔ کچھ ماہرین نے یہ واضح کردیا ہے کہ تجارتی سیٹلائٹ کی تصاویر سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ فردو کے جوہری پلانٹ پر امریکی حملے سے شدید نقصان ہوا ہے ۔ یورینیم کو افزود کرنے کی جگہ اور سینٹرفیوجل آلات کو تباہ کردیا گیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی فیصلہ کن یقین دہانی نہیں ہے ۔ امریکی وزیر دفاع بیت ہگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ساتھ امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے بڑے نقصان پرزور دیا اور کہا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے بنیادی حصے کو فیصلہ کن دھچکا لگا دیا گیا ہے۔ انہوں نے جوہری سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کی واضح صورت حال نہیں بتائی۔
زیرزمین تباہی کا سائز
اسسٹنٹ محقق سی این اے ڈیکر ایولیل، جو سیٹلائٹ امیجز میں مہارت رکھتے ہیں ، نے نشاندہی کی کہ زیر زمین تباہی کے حجم کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فردو کی سہولت ، جس میں سیکڑوں سنٹرفیوج ڈیوائسز موجود ہیں، کو بہت بڑی گہرائی میں دفن کیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر اس کو پہنچنے والے نقصان کا پتہ نہیں لگا سکتیں۔
متعدد ماہرین نے امریکی حملے سے پہلے بھی متنبہ کیا تھا کہ ایران نے شاید انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ منتقل کر دیا تھا اور فردو سے ہتھیاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔
انہوں نے جمعرات اور جمعہ کو فردو میں ایک غیر معمولی سرگرمی دکھاتے ہوئے سیٹلائٹ میں میکسار ٹیکنالوجیز کے ذریعہ لی گئی تصاویر کا حوالہ دیا اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کی موجودگی کا بتایا جو اس سہولت کے داخلی راستے کے سامنے انتظار کر رہی تھیں۔ گذشتہ اتوار کو ایرانی ایک سینئر ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ زیادہ تر 60 فیصد افزودہ یورینیم امریکی حملے سے پہلے کہیں اور منتقل کیا گیا تھا۔