سعودی عرب نے دبئی میں منعقدہ جی سی سی کے ایک اعلیٰ سطحی صنفی مکالمے میں اپنی وسیع اصلاحات اور خواتین افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی شرکت کو نمایاں کیا۔ یہ تقریب متحدہ عرب امارات کی صنفی توازن کونسل اور عالمی بینک کے زیرِ اہتمام ہوئی۔
مملکت نے گذشتہ ہفتے ہم مرتبہ افراد کے علاقائی تبادلے میں حصہ لیا۔ اس میں مملکت نے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے عہدیداروں کے ساتھ ورکشاپس اور ڈائیلاگ سیشنز کی ایک سیریز میں شمولیت اختیار کی جن کا مقصد افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کی حمایت کے لیے بہترین طریقوں کا اشتراک کرنا تھا۔
سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے سعودی وزارت برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی کی جنرل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنادی الحکیر علم کے تبادلے کے سیشن میں شریک ہوئیں جہاں انہوں نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مملکت کی کامیابیاں اور حکمتِ عملی پیش کی۔
سیشن کے دوران الحکیر نے سعودی عرب کی تیز رفتار پیشرفت پر زور دیا جس میں افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا جو 2017 میں 17 فیصد سے بڑھ کر آج 36 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ تقریب اس بات پر غور کرنے کا ایک درست وقت ہے کہ مملکت نے کام کی جگہ پر خواتین کی شرکت کو آگے بڑھانے اور حقیقی دنیا کے اسباق اور اس بارے میں کامیاب حکمت عملی کا اشتراک کرنے میں کتنی ترقی کی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ہمارے ساتھیوں کے ساتھ ترقی کو کیا چیز آگے بڑھاتی ہے۔ ویژن 2030 کے اہداف کو عبور کرتے ہوئے سعودی عرب نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں بے مثال سنگِ میل حاصل کیے ہیں۔"
عالمی بینک کی زیرِ قیادت اس تقریب میں صنفی شمولیت والی لیبر مارکیٹوں کے لیے بہترین عالمی طریقوں کے بارے میں سیشنز شامل تھے۔ ان طریقوں میں بچوں کی نگہداشت کی پالیسیاں، قانونی تحفظات اور ڈیجیٹل اور سبز معیشت کے شعبوں میں خواتین کی رسائی کو بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں۔
اس میں آئندہ خواتین، کاروبار اور قانون (ڈبلیو بی ایل) انڈیکس کے طریقہ کار کے بارے میں بصیرت بھی پیش کی گئی۔ یہ عالمی بینک کا ایک پیمانہ ہے جو صنف سے متعلق ریگولیٹری کی پیشرفت کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔
سعودی عرب کے نائب وزیرِ محنت ڈاکٹر عبداللہ ابواثنین نے طویل مدتی صنفی مساوات کے لیے مملکت کے عزم کے بارے میں کہا:
"خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا محض ایک مقصد نہیں ہے؛ یہ مملکت کی طویل مدتی خوشحالی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ اس جذبے کے تحت وزارت نے سرکاری اداروں، قومی پروگراموں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر سعودی ویژن 2030 شروع ہونے کے بعد سے ساختی اصلاحات اور اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "مساوی تنخواہ کی قانون سازی سے لے کر سفر میں معاونت اور زچگی کی پالیسیوں تک ان اصلاحات اور اقدامات نے سعودی خواتین کے لیے حقیقی راستے کھولے ہیں کہ وہ کام کی جگہ پر کام میں حصہ لیں، ترقی کریں اور قیادت کریں۔ ہمیں اپنے تجربے کا اشتراک کرنے اور خلیج اور وسیع تر خطے میں اپنے شراکت داروں سے سیکھنے پر فخر ہے۔"
سعودی عرب کی طرف سے مندرجہ ذیل اصلاحات اور اقدامات پر روشنی ڈالی گئی:
درمیانی اور سینئر سطح کے انتظامی عہدوں کی حامل خواتین میں اضافہ جو 2017 میں 28.6 فیصد سے بڑھ کر اب 44.1 فیصد ہو گیا ہے۔ اس میں ایک غیر منافع بخش کاروباری سکول INSEAD کے ساتھ شراکت میں قیادت کی تربیت کا تعاون شامل ہے۔
متوازی تربیتی اقدام جس نے نجی شعبے کے 46,000 شراکت داروں میں 800 سے زیادہ پروگراموں کے ذریعے 122,000 سے زیادہ خواتین کو روزگار تلاش کرنے میں مدد کی ہے۔
وصول ٹرانسپورٹ پروگرام 288,000 سے زیادہ خواتین کو کام پر جانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مساوی تنخواہ کو فروغ دینے اور ملازمتوں اور ترقیوں میں امتیازی سلوک کے خلاف قانون سازی۔
زچگی کی رخصت میں مکمل تنخواہ پر 12 ہفتوں تک توسیع اور قرۃ اقدام کے ذریعے بچوں کی نگہداشت تک رسائی میں اضافہ
خواتین کے لیے ریٹائرمنٹ کے مساوی فوائد کو یقینی بنانے والی ریگولیٹری اصلاحات۔
کام کے جدید ماڈلز مثلاً فری لانس، فاصلاتی اور لچکدار ملازمت کے لیے معاونت۔
ان کوششوں نے اجتماعی طور پر سعودی خواتین کے لیے افرادی قوت میں مضبوط شرکت، برقرار رکھنے کے عمل اور قیادت کے مواقع میں کردار ادا کیا ہے۔ ان سے مملکت خطے میں خواتین کے لیے متحرک ترین لیبر مارکیٹ میں سے ایک کے طور پر سامنے آئی ہے۔
-
سعودی عرب : مشرقی صوبہ کے گورنر نے فارغ التحصیل ہونے والے گریجوایٹس میں اسناد تقسیم کیں
سعودی عرب کے مشرقی صوبہ کی گورنر شہزادہ سعود بن نائف نے حال ہی میں 'زیڈ اے ڈی کے' ...
مشرق وسطی -
سونے، چاندی اور ریشم سے مزین … سعودی عرب میں غلاف کعبہ کی سالانہ تبدیلی کی تقریب
ایک روایت جس کو مملکت نے 100 برس سے زیادہ عرصے سے محفوظ رکھا ہے
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور شام کی مشترکہ کارروائی، منشیات کی بھاری مقدار ضبط
ریاض کا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف عزم، شام کے ساتھ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط
مشرق وسطی