ایران کا واشنگٹن سے مذاکرات سے انکار، یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا اعلان

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب کا دو ٹوک مؤقف: موجودہ حالات بات چیت کے لیے سازگار نہیں، امریکہ شرائط مسلط کرنا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

امریکی چینل "سی بی ایس" سے بات کرتے ہوئے ایروانی نے کہاکہ "ہم امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مگر موجودہ حالات اس کی اجازت نہیں دیتے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر امریکی ہم پر اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتے ہیں تو ان سے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "یورینیم کی افزودگی ہر حال میں جاری رہے گی"۔

ایروانی نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ایجنسی کے معائنہ کار ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔

12 روزہ جنگ

یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 13 جون سے شروع ہونے والی جنگ 12 دن تک جاری رہی، جس میں اسرائیل نے ایران کی عسکری اور جوہری تنصیبات، راکٹ لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا، جبکہ کئی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔

اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

یہ جنگ بعد ازاں امریکہ کی براہِ راست مداخلت میں تبدیل ہو گئی، جب 21 جون کی شب امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہانپر فضائی حملے کیے۔

ایران نے جوابی کارروائی میں قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

24 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا۔

جنگ کے آغاز سے ہی تہران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کی مذمت نہیں کی۔

25 جون کو ایرانی پارلیمان نے ایجنسی کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں