شامی سکیورٹی حکام نے ملک کے جنوبی صوبے درعا میں کپیٹاگون نشہ آور گولیوں کی ایک بڑی کھیپ پکڑی ہے، جن کی تعداد 17 لاکھ بتائی گئی ہے۔
سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق انسدادِ منشیات کے محکمے نے اتوار کے روز درعا کے مشرقی علاقوں میں واقع چند گوداموں پر چھاپے مارے، جہاں بڑی مقدار میں کپیٹاگون گولیاں ذخیرہ کی گئی تھیں اور انہیں بیرونِ ملک اسمگل کرنے کی تیاری ہو رہی تھی۔
اس کارروائی سے قبل جمعہ کے روز بھی شامی حکام نے لبنان کی سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز اور اسمگلروں کے درمیان جھڑپ کے بعد تقریباً 30 لاکھ کپیٹاگون گولیاں برآمد کی تھیں۔
یاد رہے کہ 2011ء میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد کپیٹاگون ملک کی سب سے بڑی برآمدی "پروڈکٹ" بن چکی ہے اور اس کی غیرقانونی فروخت طویل عرصے تک معزول صدر بشار الاسد کی حکومت کے لیے اہم مالی ذریعہ رہی۔
اسمگلنگ کا سلسلہ جاری
بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی عبوری قیادت، جس کی سربراہی صدر احمد الشرق کر رہے ہیں، مسلسل دعویٰ کر رہی ہے کہ ملک بھر میں کپیٹاگون کی پیداوار اور ترسیل کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں گولیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔
تاہم اس کے باوجود کپیٹاگون کی اسمگلنگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ شام کی ہمسایہ ریاستیں آئے روز اپنی سرحدوں پر منشیات کی بڑی مقدار پکڑنے کی اطلاعات دیتی رہتی ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں شام کے وزیر داخلہ انس خطاب نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ملک بھر میں کپیٹاگون کی تیاری کے تمام کارخانے بند کر دیے ہیں۔