اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی عدن پہنچ گئے ، یمن میں سیاسی جمود ختم کرنے پر زور

گزشتہ 10 ماہ میں خصوصی ایلچی کا یہ یمن کا پہلا دورہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی برائے یمن، ہانس گرونڈبرگ، آج منگل کی صبح جنوبی شہر عدن پہنچ گئے۔ یہ گزشتہ تقریباً دس ماہ میں ان کا پہلا دورہ ہے، جو ملک میں سیاسی تصفیے کے عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد دیے گئے اپنے بیان میں اقوام متحدہ کے ایلچی نے ملک میں جاری سیاسی جمود کو ختم کرنے کے لیے جرات مندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت تمام فریقوں سے سنجیدہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے تاکہ سیاسی عمل کو بچایا جا سکے اور اسے ایک جامع حل کی طرف لے جایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری ایک وڈیو پیغام میں گرونڈبرگ نے کہا "اگرچہ علاقائی کشیدگی اور چیلنجوں کے باوجود یمن میں نسبتاً سکون ہے، مگر یہ ایک قیمتی موقع ہے جسے سیاسی عمل کو تقویت دینے اور اقتصادی و سیکیورٹی مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔"

انھوں نے مزید کہا "میں یمنی فریقوں کے ساتھ سنجیدہ اور گہرے مذاکرات کا منتظر ہوں، کیونکہ حالات مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں فوری اور مؤثر فیصلوں کی اشد ضرورت ہے جو یمنی عوام کے لیے ایک محفوظ اور پُر امن مستقبل کی امید کو بحال کریں۔"
گرونڈبرگ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلے کی پیچیدگیوں کے پیش نظر، مقامی اور بین الاقوامی سطح پر کوششوں کو دوگنا کرنا نا گزیر ہے تاکہ پائے دار حل تک پہنچا جا سکے۔ انھوں نے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر یمنی عوام کے مفاد کو ترجیح دینے اور انسانی و اقتصادی میدانوں میں ٹھوس پیش رفت کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمنی حکومت اور حوثی جماعت کے درمیان امن بات چیت واضح جمود کا شکار ہے۔ اس دوران انسانی صورت حال کی بگڑتی حالت اور سیاسی تقسیم کے تسلسل پر انتباہات بڑھتے جا رہے ہیں، اور اعتماد سازی یا عوامی مشکلات میں کمی کے حوالے سے کوئی حقیقی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

عدن کا یہ دورہ گرونڈبرگ کی نئی سفارتی سرگرمیوں کی ابتدا ہے، جن کا مقصد کئی ماہ کی جمود کے بعد سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ توقع ہے کہ وہ اس دورے کے دوران سرکاری حکام، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں