اسرائیل سے نارملائزیشن کے سوال پر لبنان اور شام ماضی سے بدلا ہوا 'ریسپانس' کی تبدیلی شروع
لبنان اور شام جہاں کچھ عرصہ پہلے تک اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کے معاملے کو مکمل ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ مگر اسرائیل کی طرف سے پچھلے ہفتے ان دونوں ملکوں کو کی جانے والی تعلقات کی پیشکشوں پر ملا جلا بلکہ کافی مختلف رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سائر نے لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات کی پیش کش کی۔ یہ پیشکش در اصل جن میں اسرائیلی سلامتی اور مفادات کا تحفظ کو میسر رہے۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے اس دائرہ میں شام اور اسرائیل کو بھی شامل کرنے پر مائل ہے۔
اس پیشکش پر پہلی بار لبنان اور شام سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ دونوں ملکوں نے ابھی خاموشی ہی رکھی ہے مگر منفی ردعمل کا نہ آنا بجائے خود ایک غیر معمولی بات ہے ۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کا یہ بیان مشرق وسطی میں آنے والی تازہ تبدیلیوں کے درمیان آیا ہے۔ بلا شبہ لبنان میں حزب اللہ کا کمزور ہوجانا اور شام سے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل امریکہ اور ایران کی حالیہ جنگ ہے۔
جس میں ایرانی جوہری پروگرام ہدف بتایا گیا۔ یہ سب پیش رفت خطے کی حرکیات میں بڑی تبدیلی کا اشارہ بنی ہیں۔
سائر کے بیان میں کہا گیا کہ شام اور لبنان ہمارے پڑوسی ہونے کے ناطے دائرہ امن میں آئیں گے جبکہ نارملائزیشن کے عمل سے اسرائیل کی سلامتی و مفادات کے تحفظ کی صورت پیدا ہوگی۔
ادھر شام کی نئی انتظامیہ اس امر کی تصدیق کر چکی ہے کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہو چکے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جاسکے۔
یہ رابطے گولان کی پہاڑیوں سے جڑے بفر زون کے علاقے پر اسرائیلی فوج کے قبضے کی حالیہ پیش قدمی کے بعد ہی ممکن ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے بشار کے جانے کے بعد بھی جہاں چاہا شام میں بمباری کی ہے۔
لیکن انہوں نے اپنے پیش رو بشارالاسد جیسے انداز میں اسرائیل کے لیے صیہونی دشمن کی اصطلاح بھی استعمال نہیں کی۔
'ھیتہ التحریر الشام' کے قائد اور شام کے نئے صدر احمد الشرع نے واضح طور پر کہا ہے کہ شام پڑوسیوں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ شام پر بمباری بند کرے۔
یہ فرق عمومی سطح پر بھی دکھنے لگا ہے۔ دمشق کے ایک کیفے میں بیٹھی ایک عام سی گھریلو خاتون رانیہ کا کہنا ہے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے میں بھی کوئی مسئلہ نہیں مگر لازم ہے کہ شام کے وقار کا خیال رہے۔
اس خاتون کا کہنا تھا ہم اسرائیل کے ساتھ مکمل نارملائزیشن کی بات نہیں کر رہے۔ لیکن مشروط طرز کی نارملائزیشن تو کی جاسکتی یے۔
شامی حکومت کی طرف سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت 1974 کی دو طرفہ سیز فائر لائن کی بنیاد سے ہی آگے بڑھنی چاہیے۔
اسی کیفے میں موجود معروف شامی وکیل عود الحماد نے کہا ' اسرائیل کے ساتھ اس امن کی حمایت کی جائے گی جو شام کے حقوق کا تحفظ کرنے والی ہو گی۔ ہماری زمین یعنی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہیے۔ یہ ہمیشہ شامی اور عرب ہیں۔'
یاد رہے اسرائیل 1967 کی جنگ کے بعد دوران گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے۔ بعد ازاں اس نے 1981 میں اس پر قبضے کو آگے بڑھایا جسے عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔
اس بنیاد پر بشارالاسد کے دور تک اسرائیل کو باقاعدہ دشمن قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح سکولوں کے نصاب میں بھی اسرائیل کو شام کا دشمن ہی بتایا گیا۔ جبکہ گولان کی پہاڑیوں کی آزادی کو قومی فرض کے طور پر پیش کیا گیا۔
بشارالاسد رجیم کے ہوتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے کہ شام کی گولان کی پہاڑیاں امن کے بدلے واپس کی جائیں۔
اب جبکہ خطے میں اسرائیل کے ساتھ دشمنی رکھنے والے کمزور ہوئے ہیں اسرائیل کی لبنان اور شام کے ساتھ امن میں دلچسپی نئے سرے سے سامنے آئی ہے۔
امریکہ بھی نارملائزیشن پر زور دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں شام کے لیے امریکی ایلچی بیرک نے اتوار کے روز کہا کہ احمد الشرع نے نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے نفرت نہیں کرتے۔
بیرک نے لبنانی حکام کو بھی ایک امن ڈرافٹ اسی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ جس کا جوابی ڈرافٹ تیار کیا جارہا ہے۔ لبنان میں اس جوابی ڈرافٹ کی تیاری کے متفقہ موقف کے لیے ایک کمیٹی کام کر رہی ہے۔
تاہم امریکہ اور اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا مطالبہ رکھتے ہیں۔ ایران کی جوہری تنصیبات کی تباہی کے بعد اس سلسلے میں امکانات اسرائیل کو زیادہ نظر آرہے ہیں۔