حماس کا قطری امن تجویز پر واپسی کا عندیہ، مگر "موراگ راہداری" سے اسرائیلی انخلا کے مطالبے

حماس نے رفح میں فلسطینیوں کی واپسی روکنے والے اسرائیلی منصوبے مسترد کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی ذرائع نے العربیہ اور الحدث کو بتایا ہے کہ حماس نے جنوری میں قطر کی جانب سے پیش کی گئی غزہ کے سکیورٹی نقشوں سے متعلق تجویز پر واپس جانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق قطری تجویز میں اسرائیلی افواج کے 700 میٹر پیچھے ہٹنے کی شق شامل ہے، جبکہ بعض مخصوص مقامات پر 400 میٹر تک اضافی گنجائش کی اجازت بھی دی گئی ہے، جس پر فریقین کے درمیان اتفاق ہوا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حماس بعض مقامات پر معمولی ترامیم پر نرمی دکھا سکتی ہے، تاہم تنظیم نے موراگ راہداری کے قیام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے مطابق اس راہداری کی موجودگی تقریباً چار لاکھ فلسطینیوں کی رفح واپسی میں رکاوٹ بنے گی، جو کسی بھی ممکنہ سیاسی حل میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کی جا رہی ہے۔

الزامات کا تبادلہ

ہفتے کے روز حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کی ناکامی کے بعد فریقین نے اس کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔ جبکہ مقامی فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں مزید 38 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔

’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ دوحہ میں اتوار سے جاری مذاکرات میں سخت تعطل کا سامنا ہے، کیونکہ اسرائیل نے جمعہ کو ایک ایسی تجویز دی جسے وہ انخلاء کہہ رہا ہے، حالانکہ وہ صرف فوج کی پوزیشن کی تبدیلی ہے۔ اس تجویز کے تحت اسرائیلی فوج غزہ کی پچاس فیصد سے زائد زمین پر بدستور موجود رہنا چاہتی ہے، جسے حماس نے مسترد کر دیا۔

ذرائع نے خبردار کیا کہ اس تجویز کا مقصد ہزاروں فلسطینیوں کو مغربی رفح کے ایک مختصر حصے تک محدود کرنا ہے، تاکہ انہیں مصر یا دیگر ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، جو حماس کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔

حماس کے مذاکراتی وفد نے واضح کیا ہے کہ وہ اسرائیلی نقشوں کو قبول نہیں کرے گا، کیونکہ یہ غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر دوبارہ قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔ اس سے غزہ ایک بار پھر ایک قید خانہ بن جائے گا، جہاں گزرگاہ ہوگی، نہ آزادیِ نقل و حرکت۔ بلکہ یہ نازی کیمپوں کی طرح کی صورت حال ہوگی۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی سیاسی اہلکار نے جواباً حماس پر الزام لگایا کہ وہ "کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں" اور "ایسی نفسیاتی جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے"۔

کچھ معاملات میں پیش رفت

ایک فلسطینی ذریعے نے مزید بتایا کہ قطری اور مصری ثالثوں نے فریقین سے کہا ہے کہ اسرائیلی انخلا سے متعلق بات چیت کو اُس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف دوحہ نہ پہنچ جائیں۔

مذاکرات سے واقف ایک دوسرے فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ حماس نے اسرائیلی افواج کے اُن تمام علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا ہے جہاں 2 مارچ کے بعد دوبارہ اسرائیلی کنٹرول قائم ہوا، جو کہ دو ماہ کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کی صورتحال ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اسرائیل تاخیری حربے اپنا کر معاہدے میں رخنہ ڈال رہا ہے تاکہ جنگ جاری رکھی جا سکے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاملات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، جس میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور فلسطینی اسیران کی رہائی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں