ایرانی صدر پزشکیان کے اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیوز ایجنسی ’’ فارس‘‘ نے وضاحت کی ہے کہ ایرانی صدر مسعود بزشکیان 16 جون کو "12 روزہ جنگ" کے دوران مغربی تہران میں ایک عمارت کے تہہ خانے میں منعقد ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں ٹانگ میں زخم آیا تھا۔
فارس نے یہ بھی واضح کیا کہ عمارت کے داخلی اور خارجی راستوں کو نشانہ بنانے کے لیے 6 بم استعمال کیے گئے تاکہ فرار کے راستے بند کیے جا سکیں۔ یہ حملہ اسی طرح کیا گیا جس طرح حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے حارة حریک میں قتل کیا گیا تھا۔
واضح رہے 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر بمباری کی مہم شروع کردی تھی جس میں ایرانی فوجی اور جوہری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور سینئر فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی۔
اس جنگ کے دوران امریکی مداخلت اس وقت ہوئی جب امریکہ نے 22 جون کو تہران کے جنوب میں فردو میں زیر زمین یورینیم افزودگی کے مقام اور اصفہان اور نطنز میں دو جوہری تنصیبات پر بمباری کردی۔ تہران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 جون کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا۔