خان یونس میں امدادی مرکز میں 20 افراد ہلاک ہوئے: غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے کہا کہ بدھ کے روز فلسطینی علاقے کے جنوب میں خان یونس میں ایک امدادی مقام پر 20 افراد ہلاک ہو گئے۔ جی ایچ ایف نے اس کا الزام ہجوم میں موجود مسلح "مظاہرین" پر عائد کیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ تنظیم نے ایک بیان میں کہا، "ہماری موجودہ فہم یہ ہے کہ ایک افراتفری اور خطرناک کشیدہ صورتِ حال کے دوران متأثرین میں سے 19 قدموں تلے کچلے گئے اور ایک کو چھرا گھونپ دیا گیا۔"

خان یونس کے ناصر ہسپتال کے ایک طبی ذریعے نے اے ایف پی کو ہلاکتوں کی کم تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ "اسرائیلی افواج" کی فائرنگ کے بعد "کئی بچوں سمیت نو شہداء" کی لاشیں ملیں۔

غزہ کی شہری دفاع کی ایجنسی نے کہا کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب بدھ کے روز فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جن میں غزہ سٹی میں چھے افراد بھی شامل ہیں۔

جی ایچ ایف نے دعویٰ کیا کہ بھگدڑ کی وجہ "ہجوم میں مشتعل افراد کی موجودگی تھی۔ ہمارے پاس یہ یقین کرنے کی معتبر وجہ ہے کہ ہجوم کے اندر موجود مسلح اور حماس سے وابستہ عناصر نے دانستہ بدامنی کو ہوا دی۔"

ناصر ہسپتال کے طبی ذریعے نے بتایا کہ متأثرین "شمال مغربی رفح میں امدادی تقسیم کے مرکز کی طرف غذائی امداد لینے جا رہے تھے" لیکن مرکز کا مرکزی دروازہ بند کر دیا گیا تھا۔

ذریعے نے مزید کہا کہ "اسرائیلی قابض افواج اور مرکز کے نجی سکیورٹی اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔"

منگل کو اقوامِ متحدہ نے کہا کہ اس نے مئی کے آخر سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں غزہ میں 875 افراد کی ہلاکتیں ریکارڈ کیں جن میں 674 "جی ایچ ایف مراکز کے قریب" ہوئیں۔

گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینا شمداسانی نے صحافیوں کو بتایا کہ "زیادہ تر لوگ گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔"

جی ایچ ایف نے بدھ کو دعویٰ کیا، "امدادی کارروائی شروع ہونے کے بعد پہلی بار جی ایچ ایف کے اہلکاروں نے ہجوم میں موجود متعدد افراد کے پاس آتشیں اسلحے کی نشاندہی کی جن میں سے ایک کو ضبط کر لیا گیا۔"

اس نے مزید کہا، "واقعے کے دوران ایک امریکی کارکن کو ہجوم میں ایک شخص نے آتشیں ہتھیار سے دھمکی دی تھی۔ اور اسے "گہرے پریشان کن سلسلے" کا حصہ قرار دیا جس میں امدادی مرکز کھولنے کے بارے میں "غلط پیغامات" بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں