سعودی وزارت داخلہ نے آج ایک مصری شہری محمود المنتصر احمد یوسف کو تعزیراً سزائے موت دے دی۔ محمود کو گزشتہ جون میں سعودی شہری ڈاکٹر عبدالملک بن بکر قاضی کے قتل کا مرتکب پایا گیا تھا۔ اس نے مقتول کو چاقو کے 16 وار کرکے قتل کیا تھا۔ یہ کیس میڈیا میں "الظہران کا جرم" کے نام سے مشہور ہے اور یہ ایک انفرادی جرم ہے جو صرف اس کے مرتکب کی نمائندگی کرتا ہے۔
مجرم کی گرفتاری کے بعد تفتیش سے اس پر جرم کا الزام ثابت ہوا۔ اسے متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس کے خلاف جرم ثابت ہونے کا حکم جاری ہوا۔ اس کے جرم کی سنگینی اور مکروہ نوعیت، اس کے عظیم جرم اور حرام عمل ہونے اور سب سے بڑے گناہوں اور سنگین جرائم میں سے ایک ہونے کا کہا گیا۔ یہ جرم اپنی ذات میں شر اور گہرا تھا اور اس کی خطرناکی اور اس کے فعل میں خونریزی پر جسارت کی گئی تھی۔ مجرم کو امن میں خلل اور پرامن لوگوں کی جان و مال کو خوفزدہ کرنا اور نیت پختہ کرنے اور بار بار چاقو مارنے کے بعد حرمتوں پامال کرنے کا مرتکب بھی قرار دیا تھا۔ اسی بنا پر اسے تعزیراً موت کی سزا سنائی گئی اعلیٰ ادارے سے تصدیق کے بعد یہ فیصلہ حتمی ہو گیا اور شرعی طور پر طے شدہ سزا کے نفاذ کا شاہی حکم جاری کردیا گیا۔
یہ جرم مقتول کے گھر کی حرمت پر حملے کی پیشگی منصوبہ بندی اور نیت کے بعد ہوا جس میں دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہونا اور مقتول کی بیوی عدلہ بنت حامد ماردینی (سعودی شہری) کو بھی مارنے اور چاقو مارنے کی کوشش کرنا بھی شامل تھا۔ مجرم نے 3 ہزار ریال تک کی رقم ناجائز طریقے سے لوٹی تھی۔اس دوران اس نے اپنے گھر سے لائے گئے ہتھیار کی دھمکی کا استعمال کیا اور مقتولین کے بڑھاپے اور گھر میں اکیلے ہونے کا فائدہ اٹھایا۔ یہ ایک خوفناک اور گھناؤنا جرم تھا۔
مجرم محمود المنتصر احمد یوسف کے خلاف اس کے گھناؤنے جرم کی وجہ سے تعزیراً سزائے موت کا حکم دیا گیا اور اس کا نفاذ کیا گیا اور اس طرح عدل کی تکمیل کی گئی۔
مشرقی ریجن پولیس کے میڈیا ترجمان نے وضاحت کی کہ سکیورٹی فورسز نے مصری رہائشی کو سعودی شہری ڈاکٹر عبدالملک قاضی، جو ایک یونیورسٹی پروفیسر تھے، کو مشرقی سعودی عرب کے شہر الظہران میں ان کے گھر میں قتل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ محمود نے ڈاکٹر عبد الملک کی بیوی پر بھی کئی چاقو کے وار کیے تھے۔
مقتول مردہ پایا گیا تھا اور مجرم چوری کے ارادے سے اس کے گھر میں زبردستی داخل ہوا تھا۔ مقتول نے پہلے کنگ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز میں کام کیا تھا اور اس کی علاقے کے تعلیمی حلقوں میں اچھی شہرت تھی۔ مجرم مصری شہری تھا ۔