مشرق وسطیٰ

مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اسرائیل کا غزہ کے کیمپوں کے گھیراؤ کا منصوبہ!

ثالثی فریق تازہ ترین تجویز پر حماس کے جواب کے منتظر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج کے ذرائع نے اخبار "یدیعوت آحرونوت" کو بتایا ہے کہ اگر غزہ میں جاری مذاکرات ناکام ہو گئے تو چیف آف اسٹاف ایال زامیر حماس کے خلاف "محاصرے اور تھکا دینے" کی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اخبار کے مطابق زامیر وسطی غزہ یا اس کے بڑے کیمپوں اور شہر میں زمینی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ ان علاقوں کو مکمل طور پر محصور کر کے فضائی حملے کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔

"یدیعوت آحرونوت" نے مزید بتایا ہے کہ اسی مقصد کے تحت اسرائیلی فوج نے غزہ سے دو باقاعدہ انفنٹری بریگیڈز ... پیرا ٹروپرز اور کمانڈوز ... کو ہٹا کر دیگر محاذوں پر تعینات کر دیا ہے۔

ادھر اسرائیلی چینل "13" نے با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی ہو سکتی ہے۔ تاہم جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے بعض اختلافات اب بھی باقی ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ "اسرائیلی رعایتوں کے باوجود حماس جواب دینے میں تاخیر کر رہی ہے"۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ "اکسیوس" نے اتوار کو بتایا کہ دوحہ میں موجود ثالثی فریق اب بھی غزہ میں جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین تجویز پر حماس کے جواب کے منتظر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دوحہ میں موجود حماس کے رہنما اس تجویز کی حمایت کا رجحان رکھتے ہیں، تاہم حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے اب تک کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

اسی ضمن میں "چینل 13" نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ "دوحہ میں مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی وجہ سے اسرائیلی وفد وہیں قیام پذیر رہے گا"، اور اگر کوئی بڑی پیش رفت ہوئی تو اسرائیلی وزیر برائے تزویراتی امور بھی ان مذاکرات میں شامل ہو جائیں گے۔

دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں اسرائیل اور حماس کئی مہینوں سے ایک ایسے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جو 60 روزہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرے۔ ان مذاکرات میں قطر، مصر اور امریکا کے سفارت کار ثالثی کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں بعض پیش رفت کی خبریں دی ہیں، لیکن تا حال افق پر کسی حقیقی پیش رفت کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

اسی تناظر میں، اسرائیلی افواج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے رائے ظاہر کی ہے کہ غزہ کی جنگ میں جنگ بندی اور حماس کے قبضے میں موجود قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پانے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

اتوار کے روز غزہ کے محاذ پر تعینات اسرائیلی افواج کے دورے کے دوران زامیر نے کہا کہ فوجی قیادت تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے تفصیلات دیے بغیر کہا "ہم نئے عملیاتی طریقے اپنائیں گے جن سے ہماری طاقت بڑھے گی، کمزوریاں کم ہوں گی اور زمینی کامیابیاں مزید مستحکم ہوں گی"۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام منصوبے سیاسی قیادت کے سامنے رکھے جائیں گے تاکہ وہ مناسب فیصلہ کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں