شام اور اسرائیلی وزرائے خارجہ باکو میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات آج جمعرات کو طے پائی ہے۔ یہ باکو میں ہونے والی دوسری ملاقات ہوگی۔ وزرا کی سطح کی ایک ملاقات پیرس میں بھی ہو چکی ہے۔
بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد بھی اگرچہ اسرائیل کی شام پر بمباری جاری ہے اور اسرائیل نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر دہائیوں سے جاری قبضے کے علاوہ اب اس سے متصل کچھ اور شامی علاقہ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔
تاہم دونوں ملکوں کے درمیان وزارتی سطح کے رابطے شروع ہو گئے ہیں۔
'اے ایف پی' کے مطابق وزرائے خارجہ گیڈون سائر اور اسعد الشیبانی کے علاوہ اسرائیل کے وزیر برائے سٹریٹجک امور رون ڈیمر بھی ملاقات میں شریک ہوں گے۔ اس سے پہلے دونوں وزرائے خاجہ کے درمیان پیرس میں بھی ایک ملاقات ابھی پچھلے ہفتے ہو چکی ہے۔
ملاقات شامی وزیر خارجہ کے ماسکو کے دورے کے بعد ہونے جارہی ہے۔ بشارلاسد حکومت کے بعد کسی شامی عہدے دار کا ماسکو کا پہلا دورہ ہے۔ بشارالاسد روسی حمایت یافتہ حکمران تھے جو آج کل جلاوطنی بھی ماسکو میں ہی گزار رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور شام کے وزرائے خارجہ کی یہ ملاقات سلامتی و استحکام کے امور پر ہی فوکس کرے گی۔ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی اور دروز قبائل سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ کیونکہ بظاہر اسی وجہ سے اسرائیل نے شامی صدر کے محل کے متصل تک اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
اس سال اہم پیش رفت یہ ہے کہ اسرائیل کا اہم ترین اتحادی و سرپرست امریکہ شام کی نئی حکومت کی بھی حمایت کر رہا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل اور شام کے درمیان 18 جولائی کو حالیہ جنگ بندی میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس کشیدگی سے قبل بارہ جولائی کو بھی اسرائیل اور شام کے حکام باکو میں ملاقات کر چکے تھے۔ ملاقاتوں کے کامیاب ہونے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بھی غیر معمولی پیش رفت کی توقع کی جارہی ہے۔