ماضی کو دفن کر دینے کے خواہش مند ہیں: الشیبانی ۔ پوتین کے ساتھ ملاقات "تاریخی" قرار

شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم اپنے ملک کو بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کی جگہ ہر گز نہیں بننے دیں گے"۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے واضح کیا ہے کہ دمشق ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ شام کو بین الاقوامی تنازعات نمٹانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اور روس دونوں ماضی کو پیچھے چھوڑ کر نئے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔

روسی دار الحکومت ماسکو میں عرب سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے الشیبانی نے کہا "ہم شام کو بین الاقوامی تنازعات کے تصفیے کی جگہ یا خطے کے لیے بحرانوں کا منبع نہیں بننے دیں گے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ نیا شام تمام بین الاقوامی، مقامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق شام اور روس ماضی کو دفن کر کے نئے تعلقات کی بنیاد رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" نے جمعرات کو اطلاع دی کہ روسی صدر ولادی میر پوتین نے ماسکو کے کریملن ہاؤس میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔

اس موقع پر الشیبانی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف سے بھی ملاقات کی۔

تاریخی ملاقات

روسی وزارت دفاع کے مطابق وزیر دفاع آندرے بیلاوسوف اور ان کے شامی ہم منصب مرہف ابو قصرہ نے بدھ کے روز ماسکو میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دو طرفہ عسکری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شامی وزارت خارجہ نے صدر ولادی میر پوتین اور وزیر الشیبانی کے درمیان ملاقات کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ماسکو اور دمشق کے درمیان سیاسی و عسکری ہم آہنگی کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں