فلسطین کی وزیر خارجہ فارِسین آغابکیان نے دے کر کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع کو بین الاقوامی سطح پر لے جانا فلسطینی اتھارٹی کا حق ہے۔ انھوں نے جمعرات کے روز اردن کے دار الحکومت عمان سے العربیہ/الحدث کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ دو ریاستی حل سے متعلق کانفرنس فلسطینی ریاست کے قیام کو عملی شکل دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری پر لازم ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی ذمہ داری قبول کرے۔ آغابکیان نے مزید وضاحت کی کہ دو ریاستی حل کانفرنس کے اختتامی بیان میں عمل درآمد کے لیے واضح بنیادیں موجود ہیں، اور یہ اعلامیہ آئندہ مرحلے میں واضح اور عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جمعرات کو امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کے بعض عہدے داروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان افراد کی شناخت ظاہر کیے بغیر ان پر اسرائیل کے خلاف تنازع کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوششوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان امریکی پابندیوں کے تحت ان شخصیات کو ویزے دینے سے انکار کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کئی ممالک، جن میں فرانس اور کینیڈا بھی شامل ہیں، ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکے ہیں۔
دو ریاستی حل کی حمایت میں اقوام متحدہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس پیر اور منگل کے روز منعقد ہوئی، جس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس نے کی۔ اس کانفرنس کے اختتام پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایک جامع دستاویز کو اپنایا جو فلسطینی تنازع کے سیاسی، انسانی، سلامتی، اقتصادی، قانونی اور بیانیاتی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتائج ایک ایسا مربوط اور قابلِ عمل دائرہ کار فراہم کرتے ہیں جو دو ریاستی حل کے مؤثر نفاذ اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے اختتام سے پہلے اس اختتامی دستاویز کی حمایت کریں۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنی گفتگو میں شہریوں کے خلاف تمام حملوں کی مذمت کی، جن میں اندھا دھند بم باری، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا، اشتعال انگیز اقدامات، نفرت انگیزی اور تباہی شامل ہیں۔ اختتامی اعلامیے میں شامل نکات میں غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے، اسرائیلی فلسطینی تنازع کے ایک منصفانہ، پائے دار اور پر امن حل اور دو ریاستی حل کے مؤثر نفاذ پر عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کا عزم ظاہر کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد ایسے ٹھوس، ناقابلِ واپسی اور وقت کے پابند اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا جو فلسطینی ریاست کے قیام کو جلد از جلد حقیقت میں بدل سکیں اور فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کے ساتھ اپنی سرزمین پر باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کر سکیں۔