حزب اللہ کو اس سال کے اختتام تک غیر مسلح کر دیا جائے گا : امریکی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ نے لبنان کو ایک تجویز بھجوائی ہے جس میں ایرانی حمایت یافتہ لبنانی گروہ حزب اللہ کو رواں سال کے اواخر تک مکمل طور پر غیر مسلح کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج کے لبنان میں فوجی حملے اور کارروائیاں روکی جائیں گی۔

اس امریکی منصوبے کے مطابق حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے بعد ہی اسرائیلی فوج لبنان کے علاقوں میں قائم کردہ اپنی فوجی پوزیشنیں بھی خالی کر دے گی۔

یاد رہے 27 نومبر 2024 کو ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نہ صرف یہ کہ اس نے لبنان میں اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں بلکہ لبنانی سرزمین پر پانچ مختلف جگہوں پر اپنا قبضہ بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

' روئٹرز' کے مطابق لبنانی کابینہ میں اسی امریکی دستاویز کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

یہ امریکی منصوبہ لبنان کے لیے امریکی نمائندے تھامس بیرک نے منگل کے روز دیا تھا۔ جس پر لبنانی کابینہ نے جمعرات کے روز غور کیا اور بہت تفصیلی جائزے کے ساتھ اقدامات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے ہتھیار چھوڑ دینے کے بڑھے ہوئے مطالبات کے بعد اپنے حالیہ بیان میں دوٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے ان تمام مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔

حزب اللہ کا یہ واضح موقف جنگ بندی کے تقریبا آٹھ ماہ بعد اس کے سربراہ نعیم قاسم کے ایک ویڈیو خطاب کی صورت سامنے آیا ہے۔

اس جنگ بندی سے قبل ستمبر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی جھڑپیں اسرائیل کے بدترین حملوں میں تبدیل ہو کر حزب اللہ کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہوئی تھیں۔ بعد ازاں نومبر میں جنگ بندی ہو گئی۔

اس جنگ بندی معاہدے پر عمل کرانے کے لیے امریکہ کا باضابطہ منصوبہ سامنے آیا ہے۔ تاہم اس بارے میں پیش رفت پر امریکی حکام اور لبنانی حکام نے فوری طور پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ حزب اللہ نے بھی فوری طور پر امریکہ کے اس منصوبے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس امریکی منصوبے پر عمل کے لیے عجلت سے کام لینے کی ضرورت کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے لبنان کے اندر جارحانہ حملوں اور بمباری کی کارروائیوں میں ایک بار پھر تیزی اور شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔

امریکہ کے پیش کردہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں لبنانی حکومت 15 دنوں کے اندر اندر ایک حکم نامہ جاری کرے گی۔ جس میں یہ وعدہ کیا جائے گا کہ 31 دسمبر 2025 تک حزب اللہ سے ہتھیار واپس لے لیے جائیں گے۔

دوسری جانب اس دوران اسرائیل لبنان میں زمینی، فضائی اور سمندری فوجی کارروائیاں بند کر دے گا۔ جبکہ فیز ٹو پر عمل کے لیے لبنانی حکومت 60 دنوں میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے عملی اقدامات شروع کردے گی۔

کیونکہ منصوبے کی روح یہ ہے کہ
حکومت تمام ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار کے سوا کسی اور کے اختیار میں نہیں رہنے دے گی۔ یعنی لبنانی فوج کی ہتھیاروں پر مکمل اجارہ داری کا اہتمام کیا جائے گا۔

اس امریکی منصوبے کی حمایت اور اس پر عمل کے لیے لبنانی فوج تعینات کی جائے گی۔

امریکہ کے پیش کردہ اس منصوبے کے فیز ٹو کے دوران اسرائیل جنوبی لبنان میں قبضے میں کی ہوئی پوزیشنوں سے دستبردار ہو جائے گا اور اسرائیل کے زیر حراست لبنانی قیدیوں کو 'انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس' کے تعاون سے رہا کرے گا۔

تیسرا مرحلہ 90 دنوں پر محیط ہوگا۔اس دوران اسرائیل اپنے پاس موجود پانچ میں سے آخری دو قبضوں سے بھی دستبردار ہو جائے گا۔ جس کے بعد لبنان میں تعمیر نو کی تیاری شروع کی جائے گی۔

بالآخر چوتھے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے 120 دنوں کے دوران حزب اللہ کے باقی ماندہ بھاری ہتھیاروں کو ختم کرنا ہوگا۔ ان ہتھیاروں میں حزب اللہ کے میزائل اور ڈرون طیارے بھی شامل ہوں گے۔

اسی چوتھے مرحلے میں امریکہ اور اس کے مشرق وسطی میں معاشی اتحادی سعودی عرب اور قطر کے علاوہ فرانس و دیگر ممالک لبنانی معیشت کے لیے وسائل کا اہتمام کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ایک اقصادی کانفرنس کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں