ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مستقبل قریب میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ عراقچی نے جمعرات کی شام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر کے طور پر مجھے نہیں لگتا کہ جنگ جلد شروع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ تاثر دے کر ایرانی رائے عامہ پر منفی اثر ڈال رہا ہے کہ مستقبل میں جنگ چھڑ جائے گی۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوج کو ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور حکومت کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ تیاری جنگ کو روکنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
12 دن کی جنگ
13 جون کو اسرائیل نے ایران حملہ کردیا تھا اور یہ جنگ 12 دن جاری رہی تھی۔ اسرائیل نے ایران میں فوجی اور جوہری مقامات کے ساتھ ساتھ شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں فوجی کمانڈروں اور جوہری سائنسدانوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ جواب میں تہران نے اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا۔ اس جنگ میں 22 جون کو امریکہ بھی کود گیا تھا اور اس نے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر بمباری کردی تھی۔ امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یہ حملے کرکے ایرانی جوہری پروگرام کو ختم کردیا ہے۔ 24 جون کو جنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ تہران نے امریکی حملوں کے جواب میں قطر میں امریکی اڈے پر بمباری کی تھی
اسرائیل اور اس کا اتحادی امریکہ ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہیں اور ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان مقاصد میں بجلی کی پیداوار بھی شامل ہے۔ ایران پر اسرائیلی حملے سے پہلے تہران اور واشنگٹن نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں 5 بالواسطہ مذاکرات کے دور کیے تھے۔