اقوام متحدہ کے ماہرین نے غزہ کی پٹی میں امداد کی تقسیم کے مراکز پر "جبری گمشدگی" کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ ادھر عالمی ادارۂ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقے میں خوراک کا نظام "مکمل انہدام کے دہانے" پر ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سینڈی میکین نے جمعرات کو بتایا کہ اگرچہ غزہ میں اضافی غذائی امداد پہنچ رہی ہے، لیکن یہ اب بھی قحط کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بالکل نا کافی ہے۔
انھوں نے بیت المقدس میں خبر رساں ادارے روئٹرز سے وڈیو کے ذریعے گفتگو میں کہا "مزید خوراک داخل ہو رہی ہے۔ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں… لیکن یہ اتنی نہیں ہے کہ ہم وہ کچھ کر سکیں جو ہمیں کرنا چاہیے .... اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آبادی غذائی قلت اور بھوک سے نہ مرے۔"
سینڈی نے مزید وضاحت کی کہ روزانہ 100 ٹرک اب بھی 600 ٹرکوں کی ضرورت سے کہیں کم ہیں، جو قحط کو روکنے کے لیے لازمی ہیں۔
بھوک سے 317 افراد جاں بحق
اسی دوران غزہ کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ حالیہ دنوں میں کم از کم 121 بچے بھوک سے جاں بحق ہو گئے ہیں۔ وزارت نے "ٹیلیگرام" پر جاری بیان میں کہا کہ غذائی قلت کے نتیجے میں موت کا شکار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 317 تک پہنچ گئی ہے، جن میں صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 نئے کیس درج ہوئے ہیں۔
چند روز قبل اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگیِ انسانی امور کی نمائندہ، اولگا چیریویکو نے غزہ کے غذائی بحران کو "انسانوں کے بنائے ہوئے المیے" سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بحران روکا جا سکتا تھا۔
اس کے علاوہ 22 اگست 2025 کو اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم فوڈ سکیورٹی مانیٹرنگ میکانزم کے ماہرین نے پہلی بار شمالی غزہ کی صورت حال کو با ضابطہ طور پر "قحط" قرار دیا تھا۔
تاہم اسی روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اپنی ذمے داری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل "قحط پیدا نہیں کر رہا بلکہ اسے روک رہا ہے"۔ دفتر نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ "امدادی سامان کو منظم انداز میں چوری کر کے اسے جنگی ہتھیاروں میں تبدیل کرتی ہے"۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے فلسطینی علاقہ اسرائیلی محاصرے میں جکڑا ہوا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی بارہا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ بارڈر سرحد کر امداد کو اندر جانے دیا جائے۔
-
غزہ میں نئے امدادی مراکز قائم کرکے فلسطینیوں کو ان میں منتقل کریں گے: اسرائیلی فوج
اسرائیلی ریاست نے غزہ میں اپنے جاری نئے جنگی منصوبے کی حکمت عملی کے تحت جنوبی غزہ ...
بين الاقوامى -
"غزہ میں قحط انسانی ساختہ ہے" .... امریکہ کے سوا سلامتی کونسل کے تمام ارکان کا موقف
14 ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ...
بين الاقوامى -
غزہ کی سکیورٹی کے لیے مصری تربیت یافتہ فلسطینی دستے: کیا ہے اصل کہانی؟
گروپ میں تقریباً 5 ہزار فلسطینی سکیورٹی اہلکار شامل ہیں: ذرائع کی ” العربیہ ڈاٹ ...
بين الاقوامى