جو بھی دو ریاستی حل میں رکاوٹ ڈالے، اسے سزا ملنی چاہیے: ہسپانیہ

یورپ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف انسانی حقوق کے احترام کی بنیاد پر رکھ سکتا ہے: ہسپانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مانوئیل الباریز نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے یورپی یونین میں خارجہ و سلامتی امور کی اعلیٰ ذمے دار کو ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں محصور غزہ کی پٹی کے حوالے سے ایک جامع یورپی اقدام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپ اس حوالے سے بہت کم اقدامات کر رہا ہے۔

الباریز نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپانیہ نے غزہ کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جو اسرائیل کو یورپی اسلحہ جات کی فروخت پر پابندی سے شروع ہوتا ہے۔

اس منصوبے میں مزید افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے اور اس میں ان سب کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ یہی واحد حل ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام لا سکتا ہے۔

ہسپانوی منصوبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو بڑی مالی امداد فراہم کی جانی چاہیے۔ وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہے کیوں کہ اسرائیل نے اُن ٹیکسوں کو روک رکھا ہے جو فلسطینی اتھارٹی کو واپس ملنا چاہیے۔

منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے تمام فیصلوں اور مشاورتی آراء پر عمل درآمد ضروری ہے، کیونکہ ان پر عمل کرتے ہوئے غیر قانونی بستیوں سے آنے والی تمام تجارت کو بند کیا جا سکتا ہے۔

پانچویں نکتے میں، منصوبے نے یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان موجودہ معاہدے کو مکمل طور پر معطل کرنے کی تجویز دی۔ وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ جب غزہ میں انسانی تباہی ہو رہی ہے، جہاں ہزاروں فلسطینی بھوک سے مر رہے ہیں جن میں بچے اور شیرخوار بھی شامل ہیں، تو ایسے میں اسرائیل کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کیا جا سکتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

الباریز کے مطابق یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ صرف اسی صورت میں تعلق رکھ سکتی ہے جب انسانی حقوق کا احترام کیا جائے، جبکہ اس پر بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب متعلقہ کمیٹی کسی رپورٹ میں سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتی ہے، تو پھر کارروائی لازمی ہے۔

ہسپانوی وزیر خارجہ نے کہا "اب باتوں کا وقت نہیں بلکہ عمل کا وقت ہے۔ جنگ کو روکنے اور غزہ کے اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔"
ہسپانوی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تجویز کردہ منصوبہ کسی غیر معمولی اقدامات پر مشتمل نہیں ہے بلکہ صرف یورپی قوانین اور بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد کی دعوت دیتا ہے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کی بھی بھرپور حمایت کی جو دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے لیے بلائی گئی ہے۔ الباریز کا کہنا تھا "ہم نے ہسپانیہ میں ایک سال سے زیادہ پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔ مجھے توقع ہے کہ تقریباً 10 مزید ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں گے۔ بہت جلد زیادہ تر یورپی ممالک فلسطین کو تسلیم کر لیں گے، اور یہ اسی راستے کا حصہ ہے جس کی قیادت ہسپانیہ نے کی ہے"۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی وفد اور صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کے اجلاسوں سے محروم کرنا اور اس کی سلامتی اور استثنا سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا اصول ہے جس پر عالمی اتفاق رائے ہے اور یورپی یونین کو اس کے دفاع میں قیادت کرنی چاہیے۔

یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ اور دنیا بھر سے سخت تنقیدیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ادھر بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بگڑتی صورت حال اور بڑھتی بھوک کے باعث ایک بڑی تباہی منڈلا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں