سعودی عرب نے جدہ کو بین سطح ذور معیار کا ثقافتی مرکز بنا دیا یے۔ جس میں دوسرے ثقافتی سرگمیوں سمیت ہیندی کرافٹس کے بہت بڑے گہوارے میں تبدہل کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں جدہ کے نصیف ہاوس کے نزدیک ایک ثقافتی پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔۔یہ بین الاقوامی سیاحوں کا آنے والے دنوں میں اہم مرکز ہوگا۔
ماہ جولائی اور اگست کےدوران زاویہ 97 نے 60 سے زائد ورکشاپس کا اہتمام کیا جا چکا ہے۔ ثقافتی مرکز میں 30 روائتی فن پارے رکھے گئے ہیں۔ جبکہ چار سو سے زائد فنکاروں نے شرکت کی ہے۔
منعقد کی جانے والی مختلف ورکشاپس میں کندہ کاری ، لکڑی سے کیا جانے والا سامان آرآئش و زیبائش ، اور مختلف اشیا کی ریسائکلنگ کاکام بھی سکھایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جدہ کو ثقافتی اعتبار سے بھی تیار کیا گیا ہے۔ ثقافتی اعتبار نمائندہ شاہکار اشیاء بھی نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔ یہ اشیاء مقامی صنعتوں کے فروغ اور عوامی معیشت کو مضبوط کرنے کی ایک کوشش بھی ہیں۔
اس اہم ثقافتی مرکز میں نمائش میں حصہ لینے کی خواہشمندوں کے لیے وافر جگہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔تاکہ مقامی برانڈز کی نمائش ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔
یہ 'انیشیٹو' وزارت ثقافت کی ان کوششوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو وزارت نے ثقافتی ترقی کے لیے مسلسل کاوشیں کر کے ایک حوصلہ افزائہ کا ماحول بنایا اور ترغیبات دیں۔
دستکاریوں کی حیثیت کو بڑھاوا دیا گیا اور دستکاروں کو ان کے علم و تجربے اور مہارت کے ساتھ بااختیار بنا نے میں کردار ادا کیا ہے۔
اب زاویہ 97 سعودی ثقافتی شناخت کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔اس کی یہ شناخت ظاہر کرتی ہے کہ تخلیقی اقدامات اور تاریخی مقامات کو متحرک پلیٹ فارمز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔