20 سال سے پراسرار نقاب پوش "ابو عبیدہ" کون تھے جنہیں اسرائیل نے قتل کر دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

"العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلز کے لیے ایک فلسطینی ذرائع نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ حماس کے فوجی ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان "ابو عبیدہ" قتل ہو گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل نے ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا جہاں القسام کے ترجمان موجود تھے اور اس اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اپارٹمنٹ میں موجود ہر شخص جان سےگیا۔

ذرائع نے "العربیہ" اور "الحدث" کو یہ بھی بتایا کہ ابو عبیدہ کے اہل خانہ کے افراد اور القسام کی قیادت نے لاش کی تصدیق کے بعد ان کی موت کی تصدیق کردی ہے۔

"القسام" کی مشہور آواز

20 سال سے زیادہ عرصے سے پراسرار نقاب پوش "ابو عبیدہ" حماس اور اس کے فوجی ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کی سب سے مشہور "آوازوں" میں سے ایک تھے۔ اگرچہ ان کا اصل نام اور چہرہ صرف چند لوگوں کو معلوم تھا لیکن انہیں تقاریر، بیانات، فوجی لباس اور سرخ کفایہ (رومال) جس سے وہ اپنا چہرہ چھپاتے تھے، کی وجہ سے بہت شہرت ملی تھی۔

ابو عبیدہ کا نام 2014 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران نمایاں ہوا تھا۔ یہ جنگ تقریباً 55 دن تک جاری رہی۔ اس وقت نقاب پوش "ابو عبیدہ" سرنگوں اور مختلف جنگی محاذوں میں موجود جنگجوؤں، اہل غزہ اور باقی دنیا کے درمیان رابطہ کار کا کام کرتے تھے۔ ابو عبیدہ کبھی بھی کھلے چہرے کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔ ابتدائی دنوں میں سیاہ نقاب استعمال کرنے کے بعدانہوں نے سرخ کفایہ کو نقاب کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا جو ان کی آنکھوں کے علاوہ تقریباً پورا چہرہ چھپا دیتا تھا۔ اسی وجہ سے انہیں عام لوگوں میں "الْمُلَثَّمْ" (نقاب پوش) کا لقب مل گیا تھا۔

انہوں نے اس حوالے سے القسام بریگیڈز کے سابق رہنما عماد عقل کی پیروی کی جو 1993 میں اسرائیل کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے اور ہمیشہ اپنے آپریشنز کے دوران سرخ کفایہ سے اپنا چہرہ چھپاتے تھے۔ 2005 میں غزہ سے اسرائیلی انخلا کے بعد ابو عبیدہ کو باضابطہ طور پر "القسام" کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ اس پراسرار نقاب پوش نے اپنی سچائی کی وجہ سے فلسطین اور مختلف عرب ممالک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔ وہ فوجی آپریشنز کی تفصیلات بیان کرنے میں مبالغہ آرائی سے گریز کرتے تھے اور ان کی فصاحت اور عربی زبان پر مضبوط گرفت بھی ان کی مقبولیت کی وجہ بن گئی تھی۔

پراسرار نقاب پوش کے متعلق معلومات

غیر سرکاری ذرائع کے مطابق ان کا تعلق بے گھر ہونے والے شہر نعلیا سے تھا اور وہ فی الحال شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیا کیمپ میں مقیم تھے۔ ان کے گھر کو ایک سے زیادہ مرتبہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ بمباریاں 2008، 2012، 2014 اور 2023 میں کی گئی تھیں۔ ان حملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل کے مرکزی اہداف میں شامل تھے۔ وہ پہلی بار 2002 اور 2003 کے درمیان "القسام" کے فیلڈ کمانڈروں میں سے ایک کے طور پر سامنے آئے۔

ابو عبیدہ نے اپنی پہلی پریس کانفرنس 2 اکتوبر 2004 کو شمالی غزہ میں "النور" مسجد میں منعقد کی جہاں انہوں نے "القسام بریگیڈز" کی جانب سے اسرائیلی افواج اور ٹینکوں کے خلاف کیے گئے کئی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا۔ ان کارروائیوں کو "ایام الغضب" کا نام دیا گیا۔ یہ غزہ میں اسرائیلی آپریشن "ایام الندم" کے جواب میں تھیں۔ جون 2006 میں ابو عبیدہ پہلی مرتبہ حماس کے رفح شہر کے مشرق میں کیے گئے آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے نمودار ہوئے جس کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے اور فوجی گیلاد شالیط کو قیدی بنا لیا گیا۔

ابو عبیدہ اپنی تقاریر ٹیلی گرام ایپ پر شائع کرتے تھے۔ سات اکتوبر کے حماس کے حملے کے بعد وہ پھر نمایاں ہوکر سامنے آئے تھے۔ اسرائیل نے انہیں چار مرتبہ نشانہ بنایا تھا۔ 2008، 2012 اور 2014 میں کیے گئے حملوں میں وہ محفوظ رہے تھے۔

کیا وہ حذیفہ الکحلوت ہیں؟

اسرائیلی پریس نے فوجی اور سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے حماس کے فوجی ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان "ابو عبیدہ" کی نقاب کے بغیر ایک تصویر شائع کی ہے اور ان کی موت کے بعد ان کی اصل شناخت ظاہر کر دی ہے۔ اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" نے بتایا کہ حماس کے ترجمان "ابو عبیدہ" حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلول ہیں۔ اسرائیلی دفاعی افواج کی طرف سے اکتوبر 2023 میں شائع ہونے والی کچھ تصاویر میں یہ بتایا گیا تھا۔ اب ان کی مبینہ موت کے بعد یہ تفصیلات پھر سے گردش کر رہی ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اتوار 31 اگست کو غزہ میں حماس کے فوجی ونگ کے ترجمان "ابو عبیدہ" کی موت کا اعلان کیا اور اسرائیلی چینل 14 نے بتایا کہ اسرائیل کی سکیورٹی ایجنسیوں کو حماس کے فوجی ترجمان ابو عبیدہ کی موت کی حتمی تصدیق مل گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں